28ویں ترمیم کے لیے چند تجاویز
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: تجویز یہ ہے کہ اگلے پانچ برس تک اگر فیلڈ مارشل کا انتقال نہ ہو تو انھیں بادشاہ سلامت مقرر کر دیا جائے۔ تمام پرتعیش، غیر ضروری عہدے جیسا کہ صدر، وزیراعظم، سپیکر، چیئرمین سینیٹ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ تمام اسمبلیاں ختم کرکے بادشاہ سلامت کی ایک کابینہ بنائی جائے، جو ملکی امور کو چلانے میں بادشاہ سلامت کی مدد کرے۔ بادشاہ سلامت چاہیں تو آئینی عدالت باقی رکھیں، اگر چاہیں تو اسے ختم کر دیں بلکہ سرے سے آئین ہی ختم کرکے نیا آئین بنا لیں۔ اگر بادشاہ سلامت چاہیں تو اپنے لیے خلیفۃ المسلمین کا لقب بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ تحریر: سید اسد عباس
موجودہ آئین پاکستان (1973ء) کا آرٹیکل 243 افواج پاکستان کے عہدوں اور ان کے تعین سے متعلق ہے۔ یہ آرٹیکل کہتا ہے کہ مسلح افواج کی سپریم کمانڈ وفاقی حکومت کے پاس ہوگی اور اس کا استعمال صدر کے ذریعے کیا جائے گا (اگر آپ کو معاملہ اس آرٹیکل کے برعکس دکھائی دیتا ہے تو یہ ریلیٹوٹی تھیوری کا مسئلہ ہے، یعنی دیکھنے کے زاویہ کی وجہ سے آپ کو کچھ الٹا دکھائی دے رہا ہے)۔ یہی آرٹیکل کہتا ہے مسلح افواج کی کمان کا استعمال اور کنٹرول قانون کے ذریعے فراہم کردہ شرائط کے مطابق کیا جائے گا(وہی ریلیٹوٹی تھیوری) اور صدر کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ آرمی، نیوی اور ایئر فورس کے سربراہان نیز چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (Chairman, Joint Chiefs of Staff Committee) کو وزیراعظم کی مشاورت سے مقرر کرے گا۔
سینیٹ میں پیش کردہ 27ویں ترمیم جو آج مورخہ 12-11-2025 کو دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی گئی اس کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیف آف دی سٹاف کا بے ضرر سا عہدہ 27 نومبر 2025ء سے ختم کر دیا جائے گا اور ایک نیا عہدہ چیف آف ڈیفنس فورسز قائم کیا جائے گا، جسے صدر وزیراعظم کے مشورے سے قائم کریں گے۔ 73 کے آئین میں اعلیٰ رینک کے فوجی افسران کے تاحیات رینک اور مراعات کو برقرار رکھنے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے مطابق فوج کے وہ افسران جنھیں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس، یا ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے پر ترقی دی جاتی ہے، وہ ان رینکس، مراعات اور وردی کو اپنی بقیہ زندگی کے لیے برقرار رکھیں گے۔
73 کے آئین کے مطابق صدر اور گورنر کو (آرٹیکل 248) کے تحت استثنیٰ حاصل ہے، یعنی وہ اپنے عہدے کی مدت کے دوران فوجداری کارروائی سے مستثنیٰ ہیں۔ 27ویں ترمیم کے مطابق صدر کے استثنیٰ کو تاحیات کر دیا گیا ہے اور گورنر کا استثنیٰ اس کے عہدے کے دوران برقرار رہے گا۔ اسی طرح موجودہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ آئینی معاملات کی تشریح اور سماعت کرتی ہے، جبکہ 27 ویں ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو خصوصی طور پر آئین کی تشریح اور اس سے متعلقہ معاملات کی سماعت کرے گی۔ میاں شہباز شریف 27 ویں ترمیم کو اسی عنوان سے پیش کر رہے ہیں کہ ہم نے آئینی عدالت کا قیام کروا لیا، باقی چھوٹی موٹی تبدیلیوں کو انھوں نے قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ اسی طرح 27 ویں ترمیم میں وفاق کو وسائل کی واپسی (آرٹیکل 142، 144، 160) کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد، تعلیم، صحت اور بہبود آبادی جیسے کئی شعبے صوبوں کو منتقل کر دیئے گئے تھے اور صوبائی خود مختاری بڑھائی گئی تھی۔ NFC ایوارڈ میں بھی صوبوں کا حصہ مقرر کیا گیا تھا، تاہم 27ویں ترمیم سب کچھ واپس لینا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ میں بھی صوبوں کے حصے کو کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ آپ کو ان ترامیم سے بھلے اختلاف ہو، مجھے ان ترامیم پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ صوبوں، عدلیہ، سیاسی جماعتوں، پارلیمان اور سینیٹ کا معاملہ ہے، وہ جانیں اور آئینی ترمیم۔ ویسے عموما آئینی ترامیم پارلیمنٹ سے سینٹ کی جانب آتی ہیں، تاہم یہ ترمیم سینیٹ سے قومی اسمبلی میں جا رہی ہے۔ سینیٹ میں اسے دو تہائی اکثریت مل گئی، یقیناً پارلیمان سے بھی اسے پاس کروا لیا جائے گا۔
صدر کو بھلا کیا اعتراض ہوگا کہ ان کو تادم آخر استثنیٰ حاصل ہو جائے اور ان پر کوئی فوجداری مقدمہ نہ بن سکے۔ میں تو 28ویں آئینی ترمیم کے لیے کچھ تجاویز دینا چاہتا ہوں، ویسے تو 27ویں ترمیم کی موجودگی میں 28 ویں کی ضرورت ہی نہیں ہے، تاہم پھر بھی خواہش کرنے اور بڑا سوچنے میں کیا حرج ہے۔ تجویز یہ ہے کہ اگلے پانچ برس تک اگر فیلڈ مارشل کا انتقال نہ ہو تو انھیں بادشاہ سلامت مقرر کر دیا جائے۔ تمام پرتعیش، غیر ضروری عہدے جیسا کہ صدر، وزیراعظم، سپیکر، چیئرمین سینیٹ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ تمام اسمبلیاں ختم کرکے بادشاہ سلامت کی ایک کابینہ بنائی جائے، جو ملکی امور کو چلانے میں بادشاہ سلامت کی مدد کرے۔ بادشاہ سلامت چاہیں تو آئینی عدالت باقی رکھیں، اگر چاہیں تو اسے ختم کر دیں بلکہ سرے سے آئین ہی ختم کرکے نیا آئین بنا لیں۔
اگر بادشاہ سلامت چاہیں تو اپنے لیے خلیفۃ المسلمین کا لقب بھی اختیار کرسکتے ہیں۔ صوبوں کو کتنے وسائل اور اختیارات دینے ہیں، سب بادشاہ سلامت کی صوابدید پر ہونا چاہیئے۔ یہ آئینی ترمیم جتنی جلد ممکن ہو، پاس کروا لی جانی چاہیئے، تاکہ عوام کو پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ، صدر، وزیراعظم، الیکشن اخراجات اور ان سب پر آنے والے خرچ سے نجات مل سکے۔ یہ جمہوریت عوام کا خون چوسنے، اس کا استحصال کرنے اور انھیں دھوکے میں رکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر رہیں۔ عوام کو اس سے جس قدر جلد چھٹکارا ملے، اس کے لیے بہتر ہے۔ بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بادشاہ سلامت کی کر دیا جائے ئینی عدالت ویں ترمیم ترمیم کے کے مطابق ختم کرکے جائے گا ا رٹیکل کے لیے اور ان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔