سٹی42:  وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے آئین میں نہایت اہم  27ویں  ترامیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروانے پر صدر مملکت، میاں نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کے سربراہوں اور ارکان پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام سے شہید محترمہ بے نظیر کی روح آج بہت خوش ہوگی۔

آئین مین انتہائی ناگزیر ترامیم کے مجموعہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ایوان نے قومی اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کیا، تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 

کیمیکل انجینئرنگ کے ریٹائرڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد علی انتقال کرگئے

انہوں نے کہا کہ ہمارے دیرینہ دوست عرفان صدیقی انتقال کرگئے۔  وہ استادوں کے استاد تھے، انہوں نے درس و تدریس میں زندگی گزاری اور جب سیاست میں آئے تو پوری ذمہ داری کے ساتھ ن لیگ اور  نواز شریف کے ساتھ وفا نبھائی۔

وانا کاؤنٹر ٹیررزم آپریشن پر قوم کو مبارکباد

وزیراعظم نے کہا کہ وانا میں خوارج نے دہشت گردی کا بازار گرم کرنے کی مذموم حرکت کی اور سانحہ اے پی ایس کی یاد تازہ کردی، اللہ کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ  خوارج جن میں بدقسمتی سے افغانستان کے لوگ بھی شامل تھے تمام کے تمام جہنم رسید ہوئے اور تمام کیڈیٹس ٹیچر، طلبا کو بحفاظت نکالا گیا۔

اسلام آباد دھماکے پر عالمی برادری کاپاکستان سے یکجہتی کا اظہار

وزیراعظم شہباز نے کہا کہ اس کامیاب آپریشن پر پوری قوم کو مبارک باد، افواج کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں، فورسز نے پیشہ وارانہ انداز سے کارروائی کی اور بڑے نقصان سے بچایا۔

اسلام آباد کچہری دھماکا اندوہناک سانحہ

شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد میں کچہری کے باہر دہشت گردی کا واقعہ اندوہناک  سانحہ ہے، جس میں جوڈیشل کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا اور اس میں وکلا سمیت 12 افراد شہید ہوئے جبکہ چار موت و زندگی کی کشمکش میں ہیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تمام شہدا کو جنت میں جگہ اور زخمیوں کو مکمل شفا عطا فرمائے۔

پہلی سے تیسری جماعت تک کے پرائمری نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ

خارجیوں کی حرکتوں کامنہ توڑجواب دیں گے

وزیراعظم شہباز نے کہا کہ ان دونوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات میں خارجی ہاتھ نمایاں ہے، ٹی ٹی پی، بی ایل اے افغانستان سے متحرک ہیں اور اُن کے بھارت کے ساتھ بھی روابط ہیں، سانحہ جعفر ایکسپریس سمیت دیگر شواہد کو ہم نے دنیا کے سامنے پیش کیا تو کسی نے بھی ان حقائق کو کسی نے چیلنج نہیں کیا۔

ملازمین کا سپیشل جوڈیشنل الاؤنسز ختم کرنے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ تیسرے روز بھی جاری

انہوں نے کہا کہ خارجیوں کو دہشت گردی سے نہ جوڑنا ایسے ہے جیسے دن کو رات اور رات کو دن کہا جائے کیونکہ اُن کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، خارجی عناصر کی حرکتوں کا ہمیں پورا علم ہے، پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اور اب بھی دیں گے اور انہیں پاکستان کے امن اور ترقی و خوشحالی میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔

افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے

سوات میں اے این پی رہنما کی گاڑی کے قریب بم دھماکا

وزیراعظم نے کہا کہ دوحہ، استنبول میں افغان عبوری حکومت سے مذاکرات ہوئے، جس میں پاکستان شریک تھا اور ہم نے ایک ہی اپنا دیرینہ مطالبہ دہرایا کہ عبوری افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو روکے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری افواج ہر روز مقابلہ کرتی ہیں، جوان میجر شہید، لیفٹننٹ کرنل اور سپاہی شہید ہوتا ہے، ہمارے شہدا اپنے بچوں کو خدا حافظ کہتے ہیں اور لاکھوں بچوں کو یتیمی سے بچاتے ہیں۔

جھوٹے سچے وعدے کر کے دہشت گردوں کو لگام نہ دینا کسی صورت برداشت نہیں

وزیراعظم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں امن قائم ہو، افغانستان اس بات پر بھی متفق ہو اور پاکستان کے ساتھ امن میں برابر شریک ہوجائے، ہم جانتے ہیں پاکستان اور افغانستان کیلیے کیا بہتر ہے، جھوٹے سچے وعدوں کے بعد  دہشت گردوں کو لگام نہ دیا جائے تو یہ ہم کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے چالیس سال تک لاکھوں افغانیوں کی مہمان نوازی کی اور انہیں محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ پرائے ہیں، ہم نے ہمیشہ بھائیوں اور مہمانوں کی طرح رکھا اور اس عمل کو ہم نے گھروں کی واپسی تک جاری رکھا، آج چالیس سال کی مہمان نوازی کا صلہ ہمیں جو دیا جارہا ہے وہ دنیا دیکھ رہی ہے۔

افغانستان کو مشروط پیش کش

وزیراعظم  شہباز شریف نے افغان طالبان کی عبوری حکومت کو پیش کش کی کہ آئیں، صدق دل سے بیٹھیں اور دہشت گردوں کو لگام دیں، ہم پوری طرح آپ کے ساتھ چلیں گے، خطے میں امن قائم ہو تاکہ ترقی اور خوش حالی ہو۔

ستائیس ویں ترمیم

وزیراعظم نے کہا کہ آئینی ترمیم کی منظوری پر صدر مملکت کا خصوصی شکریہ، نواز شریف یہاں آئے اور کارروائی میں شریک ہوئے، بلاول بھٹو، خالد مقبول، چوہدری سالک حسین، عبدالعلیم خان، خالد مگسی صاحب، اعجاز الحق، اے این پی کے لیڈر اپنے بھتیجے ایمل ولی اور حلیف جماعتوں کے تمام اراکین کا شکریہ جنہوں نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیے۔  میں اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، سیکریٹری قانون، اسپیکر اور تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، آئینی ترمیم پر بھرپور مشاورت ہوئیں، یہ ترامیم اب آئین کا حصہ بن گئیں ہیں،

آئینی عدالت کا معرض وجود میں آنا میثاق جمہوریت کا عروج 

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا میثاق جمہوریت میں واضح آئینی عدالت کا واضح لکھا تھا، آج 19 سال بعد یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا،  شہید محترمہ بے نظیر کی روح کو تسکین مل رہی ہو گی، اللہ نے آج نواز شریف کو بھی سرخرو کیا، آئینی عدالت کا معرض وجود میں آنا میثاق جمہوریت کا عروج ہے۔

 ترقی اور خوشحالی کیلیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کو 19 سالوں میں آئینی عدالت کے حوالے سے یاد نہ آیا، آج انہیں یہ کورٹ تکلیف دے رہی ہے مگر میں سمجھتا ہوں اختلاف اپوزیشن کا حق ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں تاہم گالی گلوچ اور الزام تراشی کو ختم کرنا ہوگا، ملک کی ترقی اور کوشحالی کیلیے سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔

شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق کی عظیم فتح اور سفارتی محاذ پر ناکامی کے بعد مودی آج بھی بے بسی کا شکار ہے، ایسے میں ہمیں قومی یکجہتی اور اتحاد کو فروغ دینا چاہیے۔

چیف جسٹس کا شکریہ، وہ نیک نام اور شاندار کارکردگی کے حامل ہیں

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا شکریہ، جنہوں نے بھرپور معاونت کی اور کورٹس نے فیصلے کیے اور قومی خزانے میں اربوں روپے آچکے ہیں، یحییٰ آفریدی نیک نام چیف جسٹس ہیں، شخصیت اور کارکردگی شاندار ہے، اُن کی مدد ملی اور اس فورم سے اُن کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

چیف جسٹس ہی آئینی عدالت اور اداروں کی سربراہی کریں گے

انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی آئینی عدالت اور اداروں کی سربراہی کرتے رہیں گے۔

’معرکہ حق میں کامیابی کے بعد غیرملکی سربراہان پانچ قدم آگے بڑھ کر استقبال کرتے ہیں‘

معرکہ حق سے پہلے اور معرکہ حق کے بعد پاکستان کی پوزیشن

وزیراعظمنے کہا،  معرکہ حق کی شاندار کامیابی کے بعد کسی بھی ملک کے سربراہ ہمارا  پانچ قدم آگے چل کر استقبال کرتے ہیں، ایک ملک میں سوا سال پہلے گیا تو واجبی سا استقبال ہوا اور معمولی باتیں ہوئیں۔  مگر جب معرکہ حق کے بعد حال ہی میں میں وہاں گیا تو جو منظر دیکھا وہ ناقابل بیان ہے؛ وہی سربراہ تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر گلے لگایا جبکہ پہلے وہ واجبی ملاقات کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عزت اللہ نے ہمیں عطا کی، یہ جرات، اخلاق، اللہ پر اعتماد، فجر کے وقت دعا مانگنے اور بہادری کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سفارتی اور عسکری محاذ پر دہائیوں میں وہ عزت نصیب نہیں کرسکا۔

اب فیلڈ مارشل کا عہدہ بحری اور فضائی  افواج کیلئے بھی ہوگا

وزیراعظم شہباز نے کہا کہ حکومت نے عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا تو اسے پوری قوم نے سراہا، جس کو آج آئینی کا حصہ بنادیا ہے،  فیلڈ مارشل کا عہدہ صرف بری نہیں بلکہ بحری اور فضائی سربراہان کیلیے بھی ہے۔

اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتے ہیں، اس عمل کو آئین کا حصہ بنایا

وزیراعظم نے کہا کہ قومیں اپنے شہدا اور غازیوں کی عزت کرتی ہیں، ہم اپنے ہیروز کو عزت دینا اور دلانا جانتے ہیں، ہم نے اس عمل کو آئین کا حصہ بنایا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ افواج، فورسز دہشت گردی کا مقابلہ کررہی ہیں، فوجی جوان، افسر، قانون نافذ کرنے والے ادارے، رینجرز، پولیس قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم رکھے ہوئے ہیں، افواج پاکستان کسی بھی جگہ پر واقعے کے بعد فوری حرکت میں آتی ہے۔

قومی اتفاق رائے کے بغیر کچھ نہیں کریں گے 

انہوں نے کہا کہ صوبے مضبوط ہوں تو وفاق مضبوط ہوگا، چار اکائیاں مل کر ہی پاکستان بنتا ہے، سوال پیدا نہیں ہوتا کہ اٹھارہویں ترمیم یا این ایف سی میں بغیر مشاورت کے کوئی تبدیلی کی جائے، صوبوں کی ترقی سے ہمیں خوشی ہے۔

کالا باغ ڈیم کے حق میں نہیں ہوں

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور وفاق کو مضبوط کرنے والی ہر چیز کے ساتھ ہوں۔ یہ نقطہ نظر سالوں سے ہے۔ وفاق کو کمزور کرنے والی چیز کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو وہ  قوم  کیلیے اچھی نہیں ہے۔ کالا باغ ڈیم شاندار معاشی منصوبہ ہے مگر اس سے وفاق کمزور ہوگا تو 100 کالا باغ ڈیم بھی ہوں مگر میں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ 

فوج اور رینجرز کے اخراجات میں شراکت پر صوبوں سے بات کریں گے

وزیراعظم شہباز نے کہا کہ فوج اور رینجرز کے اخراجات وفاق برداشت کرتا ہے مگر ہم اس معاملے پر علیحدہ بیٹھیں گے اور اس پر بات کریں گے اور اتفاق نہ ہوا تو پھر کوئی بات نہیں ہے۔ یہاں اُن کا اشارہ اخراجات کی ادائیگی صوبوں کی طرف تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ بیٹھ کر بے شمار معاملات کو طے کرنا ہے، جیسے کسٹم ڈیوٹی صوبوں کے پاس جمع ہونے کا ذکر آئین میں نہیں بلکہ اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا، ہمیں دکھوں اور سکھوں کو ملکر لے کر چلنا اور انہیں ختم کرنا ہے۔

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا کہ شکریہ ادا کرتا ہوں وزیراعظم نے کہا کہ ا ئینی عدالت کا انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا شکریہ ادا نے کہا کہ ہم پاکستان کے نے کہا کہ ا نواز شریف چیف جسٹس معرکہ حق کریں گے کے ساتھ کا حصہ کے بعد اور اس کی اور

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ