شکاگو میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے یوم معرکہ حق منایا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
شکاگو(نیوز ڈیسک)شکاگو میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے یوم معرکہ حق منایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے افواج پاکستان، سیاسی و عسکری قیادت کو خراج تحسین پیش کیا۔ شکاگو میں پاکستانی کمیونٹی کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی امریکن بزنس چیمبر آف کامرس کے صدر نوید انور نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ صدر ٹرمپ نے بھارت کی درخواست پر فوری جنگ بندی کرائی اور دنیا کے امن کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ہر امن پسند انسان صدر ٹرمپ کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور افواج نے عالمی قانون اور ذمہ دار ریاست کے طور پر کردار ادا کیا۔ پاکستان کی تحقیقات کی پیشکش نہایت دانشمندانہ اور مناسب تھی جس کی پوری دنیا نے تائید کی۔ نوید انور نے کہاکہ بھارت نے رات کی تاریکی میں جارحیت کی اور عام شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا لیکن پاکستان نے دن کے اُجالے میں بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ناقابل تسخیر دفاع کی طرح معاشی قوت بننا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سمیت پاکستان کے سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر ہر فرد نے عظیم جذبے اور مہارت سے کام کیا۔ نوید انور،قونصل جنرل طارق کریم رانا،جاویدچوہدری ،رشیدچوہدری ،ریاض قاری،منان سلیمان ،آفتاب رانا،زاہد آصف ملک
نے چیئرمن جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، ائیر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو، ایڈمرل نوید اشرف اور افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ پاکستانی امریکن کمیونٹی نے اجتماعی طور پر افواج کو مبارک دیتے ہوئے کہاکہ کہ ملک کے اندر اور ملک سے باہر ہر پاکستانی اور پاکستان سے محبت کرنے والے کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ اس موقع پر شہدا کے درجات کی بلندی، اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔