امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کا آخری دن
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
دوپہر میں امریکی صدر ابوظبی کے سعدیات جزیرے پر واقع ابراہیمک فیملی ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں مسلمان، مسیحیوں اور یہودیوں کیلئے عبادت گاہیں ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوپہر میں ابوظبی کے سعدیات جزیرے پر واقع ابراہیمک فیملی ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دورہ مشرقِ وسطیٰ کے آخری دن ابوظبی کی گرینڈ کینال پر واقع ہوٹل میں قیام کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شاہی محل قصر الوطن پہنچیں گے۔ اپنے قیام کے دوران امارات میں مقیم امریکی کاروباری افراد سے ملیں گے۔
دوپہر میں امریکی صدر ابوظبی کے سعدیات جزیرے پر واقع ابراہیمک فیملی ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں مسلمان، مسیحیوں اور یہودیوں کیلئے عبادت گاہیں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کا مشہور لوور ابوظبی کا دورہ بھی کریں گے، وہ زید نیشنل میوزیم بھی جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سہ پہر میں دورہ مشرق وسطیٰ کا اختتام کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واقع کا دورہ کریں گے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔