تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا، شرکائے تقریب
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
حریت رہنما الطاف احمد بٹ کی طرف سے بیرون ملک مقیم کشمیری رہنمائوں کے اعزاز میں دیے گئے ایک عشائیے کے شرکاء نے کہا کہ پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب کے شرکاء نے کہا ہے کہ تنازعہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کے مطابق حریت رہنما الطاف احمد بٹ کی طرف سے بیرون ملک مقیم کشمیری رہنمائوں کے اعزاز میں دیے گئے ایک عشائیے کے شرکاء نے کہا کہ پاکستان نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بناتے ہوئے اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فوجی فتح کا سفارتی طور پر بھی فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔ انہوں نے بھارت کے مذموم عزائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اہم عالمی دارالحکومتوں سمیت اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین اور دیگر عالمی پلیٹ فارمز پر خصوصی وفود کو متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے بھارتی جارحیت، سرحدی خلاف ورزیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ناقابل تردید ثبوت پیش کرنے کے لیے مندوبین کو جامع بریفنگ دی جانی چاہیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ بھارت اپنی ذلت آمیز شکست کے باوجود مکروہ پروپیگنڈے اور سازشوں کا سہارا لے رہا ہے۔ انہوں نے جھوٹی خبروں پر مبنی بھارتی مہمات کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد اور اجتماعی ذمہ داری کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر سوشل میڈیا پر جہاں سچائی کو مسخ کرنے اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے من گھڑت خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کو ان کی فیصلہ کن فتح اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی ذرائع، میڈیا اور نچلی سطح پر ایک مربوط اور اسٹریٹجک بیانیہ ہی بھارت کے جھوٹے بیانیے کا موثر طریقے سے توڑ کر سکتا ہے اور دنیا کے سامنے اس کے حقیقی ایجنڈے کو بے نقاب کر سکتا ہے۔ عشائیہ کے شرکاء نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلانے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی اپیل کی کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے میں تعمیری کردار ادا کریں تاکہ پائیدار علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔عشائیے میں محمد غالب، راجہ فہیم کیانی، مزمل ایوب ٹھاکر، چوہدری شعیب، فرحت میر، سردار عمران عزیز، شیخ عبدالمتین اور عبدالحمید لون سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرنے کے لیے کے شرکاء نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔