UrduPoint:
2026-07-24@09:06:30 GMT

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید بائیس افراد ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید بائیس افراد ہلاک

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 مئی 2025ء) غزہ پٹی میں ریسکیو عملے نے بتایا کہ پیر کے دن وہاں تازہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مزید کم از کم بائیس افراد مارے گئے۔ یہ تازہ کارروائی ایک ایسے وقت پر کی گئی ہے، جب اسرائیل نے اس جنگ زدہ فلسطینی علاقے میں قحط کی صورتحال سے بچنے کے لیے ''ضرورت کے مطابق‘‘ خوراک کی ترسیل کی اجازت دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی افواج نے بتایا کہ غزہ پٹی میں فلسطینی جنگجو تنظیم حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک نئی شدت کے ساتھ ''وسیع زمینی کارروائیاں‘‘ شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ساتھ ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں۔

اسرائیل نے دو ماہ سے زائد عرصے سے غزہ پٹی کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کے باعث اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔

(جاری ہے)

ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں میں اسرائیل کا قریبی اتحادی ملک امریکہ بھی شامل ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمین نیتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو کہا کہ فوج کی سفارش پر ''اسرائیل (غزہ پٹی کی) آبادی کے لیے ایک بنیادی مقدار میں خوراک کی فراہمی کی اجازت دے دے گا تاکہ غزہ پٹی میں قحط کی صورتحال پیدا نہ ہو۔‘‘

اس بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ''حماس کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مہیا کی جانے والی اس امداد پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

‘‘ یورپی یونین، امریکہ اور متعدد مغربی ممالک حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ تازہ حملوں میں مزید ہلاکتیں

حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کے ریسکیو اہلکاروں نے خان یونس اور اس کے آس پاس شدید فضائی حملوں کی اطلاع دی ہے۔ غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باصل نے بتایا کہ ان تازہ کارروائیوں کے نتیجے میں گیارہ افراد مارے گئے اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔

خان یونس کے دیگر حصوں میں ہوئے حملوں میں گیارہ دیگر افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان میں ایک ہی خاندان کے تین افراد بھی شامل ہیں۔

ناکہ بندی کا مقصد کیا؟

اسرائیل نے کہا ہے کہ دو مارچ سے جاری غزہ پٹی کی ناکہ بندی کا مقصد فلسطینی عسکری گروہ حماس پر دباؤ بڑھانا ہے لیکن اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خوراک، صاف پانی، ایندھن اور ادویات کی شدید قلت سے خبردار کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ '(غزہ میں) بہت سے لوگ بھوک کا شکار ہیں،‘ کہا تھا، ''ہم اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

عالمی رہنما کیا کہتے ہیں؟

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امداد کی ''فوری، بڑی اور بلا رکاوٹ‘‘ فراہمی بحال کرے۔

پوپ لیو چہار دہم نے اپنے کلیسائی منصب سنبھالتے ہوئے افتتاحی اجتماع میں کہا، ''ہم اپنے ان بھائی بہنوں کو نہ بھولیں جو جنگ کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ''غزہ میں بچے، خاندان اور بزرگ فاقوں پر مجبور ہیں۔‘‘

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے ''شمالی اور جنوبی غزہ پٹی میں وسیع زمینی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

‘‘ اس عسکری مہم کا مقصد اسرائیل کے مطابق یرغمالیوں کو بازیاب کرانا اور حماس کو شکست دینا ہے۔ تازہ کارروائی کب شروع ہوئی؟

یہ کارروائی اس وقت تیز ہوئی جب دونوں فریق قطر میں بالواسطہ مذاکرات میں مصروف ہیں تاکہ جنگ بندی کی کوئی نئی ڈیل ممکن ہو سکے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئے معاہدے میں ''تمام یرغمالیوں کی رہائی، حماس کے دہشت گردوں کی جلاوطنی اور غزہ کی پٹی کا غیر مسلح ہونا‘‘ شامل ہوں گے۔

مارچ میں دو ماہ کی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں مذاکرات کسی پیش رفت میں ناکام رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے حماس کی مکمل شکست کے بغیر جنگ ختم کرنے کی مخالفت کی ہے جبکہ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا ہے۔

مذاکرات سے واقف حماس کے ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ تحریک ''تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو ایک ہی بار رہا کرنے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ مستقل اور جامع جنگ بندی معاہدہ طے پا جائے۔

‘‘ لیکن ان ذرائع نے مزید کہنا تھا کہ اسرائیل ''یرغمالیوں کو ایک یا دو مراحل میں رہائی کے بدلے عارضی جنگ بندی چاہتا ہے۔‘‘ تنازعہ کب اور کیسے شروع ہوا؟

سات اکتوبر 2023ء کو حماس کے عسکریت پسندوں نے غزہ پٹی سے اسرائیل میں داخل ہو کر اچانک ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباﹰ 1200 افراد مارے گئے تھے۔

یہ فلسطینی جنگجو 250 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر اپنے ساتھ غزہ پٹی بھی لے گئے تھے۔ ان میں سے 57 اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے 34 کے بارے میں اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔

اس دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد اسرائیل نے غزہ پٹی میں حماس کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے خصوصی عسکری آپریشن شروع کیا تھا، جو گزشتہ سیزفائر تک جاری رہا تھا۔

غزہ پٹی میں حماس کے طبی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد اٹھارہ مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والی اسرائیلی عسکری کارروائیوں میں اب تک کم از کم 3193 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سات اکتوبر سن 2023 سے شروع ہونے اس مسلح تصادم کے دوران غز پٹی میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد بھی اب 53339 ہو چکی ہے۔

ادارت: عاطف توقیر، مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے غزہ پٹی میں اسرائیل نے ناکہ بندی حماس کے کے لیے کیا ہے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری

 گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا، متعدد شاہراہیں، پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے ہزاروں افراد، جن میں سیاح بھی شامل ہیں، مختلف علاقوں میں پھنس گئے۔

محکمہ موسمیات نے 26 جولائی تک گلگت بلتستان میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے سے اچانک سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پورا ہفتہ موسلا دھار مون سون بارشیں، محکمہ موسمیات کا ملک گیرالرٹ، شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کا انتباہ

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق قراقرم شاہراہ داسو سے ہنزہ اور نگر تک کئی مقامات پر بند ہے، جبکہ بابوسر روڈ، بلتستان روڈ، نلتر شاہراہ، غذر۔شندور روڈ، استور ویلی روڈ اور دیگر اہم راستے بھی سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہوگئے ہیں۔

مسلسل سیلابی صورتحال کے باعث امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ کئی علاقے پل اور رابطہ سڑکیں تباہ ہونے کے بعد ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے ہیں۔

روندو سب ڈویژن کے تورمک نالہ میں شدید سیلاب سے کم از کم تین اہم پل، جن میں ملان پل بھی شامل ہے، بہہ گئے۔ خرمانگ، گانچھے اور شگر اضلاع میں سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں، فصلوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ ہراموش میں معلق پل اور بجلی گھر متاثر ہوئے ہیں۔

استور، تانگیر، تھور اور ضلع دیامر کے دیگر علاقوں میں بجلی، پانی اور مواصلاتی نظام معطل ہو گیا ہے۔ پینے کے پانی کی اسکیمیں، آبپاشی کے نہری نظام اور حفاظتی پشتے بھی تباہ ہو گئے، جبکہ کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا میں شدید بارشوں کی پیشگوئی، گلیشیئر پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

استور، تھور ویلی، تانگیر اور دیگر علاقوں میں درجنوں خاندان سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بے گھر ہو گئے ہیں۔

ضلع غذر میں متعدد مقامات پر سڑکیں بند، مقامی سطح پر سیلابی صورتحال اور دو گھروں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت حساس علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہنزہ نگر دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے سے گلگت کے جوتل علاقے میں آٹھ گھروں کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جبکہ یاسین ویلی، شیلی آباد، امیت اور دیگر علاقوں میں دریا کے کٹاؤ سے زرعی اراضی اور درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ غذر۔شندور اور غذر۔گلگت سڑکیں بھی تاحال بند ہیں۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے اور انہیں خیمے، راشن، ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 6 سے 10 اپریل کے دوران بارشیں اور ژالہ باری، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے کام تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خوراک، صحت، پینے کے پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور تباہ شدہ سڑکوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت متاثرہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر متاثرین کی بحالی اور ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے اسلام آباد میں قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے انہیں بتایا کہ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کی جدید سائنسی طریقوں سے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ہر گلیشیئر کو منفرد شناختی کوڈ دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں اور گلگت بلتستان ان سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے، جہاں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش تباہی سیلاب گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم