Express News:
2026-07-24@07:02:07 GMT

سفارتی جنگ کا آغاز

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر جاری ہے۔ یہ سیز فائر فی الحال مستقل ہے۔ میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ میں اس رائے سے متفق نہیں کہ کچھ دن بعد بھارت پاکستان پر دوبارہ حملہ کر دے گا۔ یہ نریندر مودی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن مودی کے لیے فی الحال یہ بہت مشکل ہے۔ وہ اکیلے بھارت کے مالک نہیں ہیں۔ وہاں ایک نظام حکومت ہے، وہ بادشاہ نہیں ہیں۔ ان کی جماعت بی جے پی میں بھی اب اختلافات نظر آرہے ہیں۔ اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ حملہ نہیں کر سکتے۔

یہ درست ہے کہ اس شکست نے مودی کو بہت کمزور کیا ہے۔ کمزور مودی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ لیکن ابھی مودی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سفارتی عالمی تنہائی ہے۔ بھارت میں ایک طرف شکست کا دکھ ہے دوسری طرف یہ بحث بھی ہے کہ دنیا بھارت کے ساتھ نہیں۔ دنیا کے اہم ممالک بھارت کے ساتھ نہیں۔ دنیا نے اس جنگ میں بھارت کا ساتھ نہیں دیا ہے۔

آپ بھارت کی طرف سے دیکھیں تو انھیں امریکا بھی اپنا مخالف نظر آتا ہے، چین مخالف ہے، انھیں یورپی یونین بھی اپنا مخالف نظر آتا ہے، انھیں ترکی اور آذربائیجان سے بھی بہت گلے ہیں، انھیں عرب ممالک بھی کھل کر اپنے ساتھ نظر نہیں آئے۔ بھارت کو تو یہ بھی دکھ ہے کہ روس نے بھی متوازن پالیسی رکھی۔ روس اس طرح بھارت کے ساتھ نہیں کھڑا تھا جیسے چین پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔ اس لیے بھارت میں ایک طرف جنگی شکست پر ماتم ہے تو دوسری طرف سفارتی شکست پر بھی بہت ماتم ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ پر بھارت میں سخت تنقید ہو رہی ہے۔ بھارت میں انھیں ایک نالائق وزیر خارجہ کہا جا رہا ہے۔ عوامی غصہ کی وجہ سے ان کے گھر کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ سیکریٹری خارجہ کے خلاف بھی ایک مہم نظر آئی ہے۔ اس لیے بھارت میں ملکی خارجہ پالیسی پر بہت تنقید ہے۔ وہاں سوال ہو رہا ہے کہ کونسا ملک اس لڑائی میں علانیہ بھارت کے ساتھ کھڑا تھا۔ تمام ممالک نیوٹرل ضرور تھے لیکن کوئی بھارت کے ساتھ نہیں کھڑا تھا۔ واحد ملک جو بھارت کے ساتھ کھڑا تھا وہ اسرائیل تھا۔ بھارت میں یہ سوال ہے کہ اسرائیل کے علاوہ کوئی ساتھ نہیں تھا۔

اس لیے بھارت نے اپنی عالمی سفارتی تنہائی کو دور کرنے کے لیے ایک پارلیمانی وفد دنیا کے دورے پر بھیجنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس پارلیمانی وفد میں بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے نمایندے بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے ششی تھرور اس کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمایندے بھی اس وفد میں شامل ہیں۔

سب نے بھارت کے لیے جانے کا اعلان کیا ہے۔ وہاں یہ بات کی جا رہی ہے کہ یہ مودی کا نہیں بھارت کا مسئلہ ہے اس لیے ہم سب جائیں گے۔ یہ پارلیمانی وفد دنیا کے اہم ممالک کا دورہ کرے گا، وہاں کے تھنک ٹینکس سے ملے گا، میڈیا سے ملے گا، حکومتی نمایندوں سے ملے گا، ان ممالک کے پارلیمنٹیرین سے ملے گا اور کوشش کرے گا کہ نہ صرف رائے عامہ بھارت کے حق میں ہموار کی جائے بلکہ پاکستان کے خلاف اس ملک کی مکمل حمایت بھی حاصل کی جائے۔ اس طرح آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھارت نے پاکستان پر ایک سفارتی حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جس میں وہ دنیا کے اہم ممالک سے پاکستان کے خلاف حمایت مانگے گا۔

بھارت کی اس حکمت عملی کے جواب میں پاکستان نے بھی دنیا میں ایک پارلیمانی وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اس وفد کے بھی وہی مقاصد ہیں جو بھارتی وفد کے ہیں۔ اس نے وہی کام پاکستان کے لیے کرنا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت بلاول بھٹو کر رہے ہیں۔ اس وفد میں بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایندے شامل ہیں۔ یہ بھی دنیا کے اہم ممالک کا دورہ کرے گا اور پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کا کام کرے گا۔

دونوں جانب سے وفود بھیجنے کے اعلان سے ایک سفارتی جنگ کا ماحول بن گیا ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ اب سفارتی جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کا پلہ بھاری ہے۔ ابھی دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔ بھارتی وفد کاکام مشکل ہے۔ کیا بھارتی وفد دنیا سے پاکستان کے خلاف جنگ میں حمایت مانگے گا۔ یہ تو عملی طور پر ناممکن ہوگا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں بھارتی وفد اب جنگ کی بات نہیں کرے گا۔ اس کے اہداف مختلف ہونگے ہمیں ان اہداف پر نظر رکھنی ہوگی۔

بھارتی وفد دنیا کے اہم ممالک کو پاکستان سے معاشی تعاون محدود کرنے پر قائل کر سکتا ہے۔ وہ دنیا کے اہم ممالک کو پاکستان سے تجارت محدود کرنے پر کہہ سکتا ہے۔ وہ دہشت گردی کو بہانہ بناتے ہوئے پاکستان پر معاشی پابندیوں کے لیے لابنگ کرسکتا ہے۔ جیسے پہلے پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں پھنسایا گیا تھا۔ اب بھی کوئی ایسی چال چلی جا سکتی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے چکر میں معاشی پابندیوں میں پھنسایا جاسکے۔ بھارتی وفد پاکستان کو معاشی طورپر کمزور کرنے کا کام کر سکتاہے۔ کیونکہ بھارت کو اندازہ ہے کہ پاکستان ایک کمزور معیشت ہے۔ اس لیے معاشی حملہ برداشت نہیں کر سکے گا۔

جواب میں پاکستانی وفد نے بھارت کی اس ساری حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے۔ پاکستان کے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ بھارت کے دہشت گردی کے جھوٹے بیانیہ کو ناکام بناناہے۔ بھارت دہشت گردی کے جو جھوٹے الزامات پاکستان پر لگاتا ہے ان کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھنی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پاکستان میں جو دہشت گردی کر رہا ہے وہ بھی دنیا کے سامنے رکھنا ہے۔ بلوچ دہشت گرد تنظیموں اور بھارت کا گٹھ جوڑ بھی دنیا کے سامنے رکھنا ہے۔

اس جنگ کے بعد ہم نے افغانستان اور بھارت کے درمیان متعدد رابطے دیکھے۔ دنیا کے بجائے بھارت افغانستان پر بہت توجہ دے رہا تھا۔ بھارت کی ایک دم جنگ کے بعد افغانستان پر غیر ضروری توجہ نے پاکستان میں بھی خطرہ کی گھنٹیاں بجائی ہیں۔ ہمیں خطرہ ہوا کہ بھارت پاکستان میں حالات کو خراب کرنے کے لیے افغانستان کو مزید استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے دنیا کو چھوڑ کر افغانستان سے بات کر رہا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے پاکستان نے چین کی مدد لی ہے۔ چین نے بیجنگ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا ہے۔ چین بھی اس میں موجود ہوگا۔ مقصد افغانستان کو بھارت کی گود میں جانے سے روکنا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ایک اچھی حکمت عملی ہے۔جب پاکستان میں امن کی بات ہو تو افغانستان کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ بھارت ماضی میں بھی افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔ اس لیے اس موقع پر افغانستان کو روکنا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح پاکستانی وزیر اعظم ایران بھی جا رہے ہیں تا کہ خطہ میں پاکستان کی جو حمایت موجود ہے اس کو قائم رکھا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارت کے ساتھ نہیں دنیا کے اہم ممالک پاکستان کے خلاف پارلیمانی وفد افغانستان کو میں پاکستان پاکستان میں بھارتی وفد پاکستان پر بھارت میں سے ملے گا بھارت کی وفد دنیا بھی دنیا کھڑا تھا میں بھی رہے ہیں اس لیے کیا ہے کرے گا کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار