Daily Ausaf:
2026-06-03@06:14:26 GMT

تہذیبی کردار سازی کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT

ہمارے نزدیک یورپ اور مغربی ممالک سماجی زندگی سے محروم ہیں۔ گو کہ مغربی تہذیب و کلچر کی اپنی الگ حرکیات ہیں مگر ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اہل مغرب کے پاس سوشل لائف نہیں ہے۔ البتہ ان کا معاشرہ کام کے دنوں میں واقعی ایک دوسرے سے گھلنے ملنے کے تصور سے تہی دامن ہے۔ لندن جیسے میٹروپولیٹن (عالمگیر)شہر میں ایک کرائے کے گھر میں رہتے ہوئے کبھی آپ کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ساتھ والے کمرے میں کون رہتا ہے۔ میں نے لندن میں نو سال ایک چار بیڈ روم کے فلیٹ میں گزارے۔ اس فلیٹ کے باقی تین کمروں کے بندوں سے میری صرف ویک اینڈ پر ملاقات ہوتی تھی جب میں ان سے کرایہ لینے کے لیئے ان کا دروازہ کھٹکھٹاتا تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے ایک دوسرے سے گپ شپ کی ہو، کھانا اکٹھے کھایا ہو یا کسی دوسری سماجی سرگرمی میں ایک ساتھ حصہ لیا ہو۔ میرے کرائے داروں میں ایک لوکل گورا بھی شامل تھا اور دو افراد دوسری قومیتوں کے تھے۔ اس دوران کسی کرائے دار نے مجھے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ ’’کرایہ لینے کل آنا۔‘‘میں جونہی ہفتہ وار ڈور ناک کرتا وہ ستر یا اسی پونڈ میری ہتھیلی پر رکھ دیتے تھے۔ میرا کرایہ داروں سے کبھی جھگڑا ہوا اور نہ کبھی ان سے بحث ہوئی۔ جیسا ہم مشرقی لوگ خصوصاً پاکستانی روزانہ یا ہر دوسرے دن اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں، گل چھرے اڑاتے ہیں اور کلکاریاں مارتے ہیں ان جگہوں پر ایسا ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کے پاس اس کام کے لیئے ضائع کرنے کو کوئی وقت بچتا ہے۔اس کے باوجود اہل یورپ کی سماجی یا سوشل لائف کا ایک اپنا مخصوص انداز ہے، وہ ہفتہ کے پانچ دن خوب محنت اور ایمانداری سے کام کرتے ہیں اور ویک اینڈ پر انجوائے بھی اسی خوبصورت تناسب سے کرتے ہیں کہ جتنا زیادہ وہ افورڈ کر سکتے ہیں۔
یورپی دنیا میں ویک اینڈ ہفتہ اور اتوار کو منایا جاتا ہے، جمعہ کی شام اور ہفتہ اتوار کے روز مارکیٹوں، کلبوں اور دکانوں کی خوب سیل ہوتی ہے۔ اس روز عام دنوں کے مقابلے میں خرید و فروخت دگنی اور تگنی ہو جاتی ہے۔ ویک اینڈ ان کے لیئے کسی عید سے کم نہیں ہوتا، نوجوان عموماً جوڑوں کی شکل میں اکٹھے ہوتے ہیں اور گھروں، کلبوں اور دوسری مخصوص جگہوں پر خوب موج مستی کرتے ہیں۔ جب اتوار کی شام آتی ہے تو سیل دوبارہ کم ہونے لگتی ہے، اور سوموار تک عام دنوں کی طرح نارمل ہو جاتی ہے۔ ویک اینڈ گزارنے کے بعد یورپی لوگ دوبارہ کام پر جت جاتے ہیں۔ اس عرصہ میں نے سیکورٹی آفیسر کے طور پر سینٹرل لندن، کناری وارف، لندن ایرینا، گلنگل برج، ایسٹ لندن اور الفورڈ وغیرہ میں مختلف محکموں پر فرائض انجام دیئے اور کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ملازمین وقت پر دفتر نہ پہنچتے ہوں یا پھر کام سے جی چراتے ہوں اور وقت ضائع کرتے ہوں۔میں نے لندن کے قیام میں سفر کے دوران بھی کسی شخص کو فارغ بیٹھے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر میں سنٹرل لائن، میٹرو، جوبلی لائن، ڈی ایل آر یا کسی دوسری ٹرین وغیرہ میں سفر کرتا تو ہر دوسرے مسافر کو کوئی اخبار، میگزین یا کتاب پڑھتے دیکھتا۔ وہاں میٹرو، ٹرینوں، ٹرامز اور بسوں وغیرہ میں اخبار کو پڑھ کر رکھ دیا جاتا ہے جو کوئی دوسرا مسافر اٹھا کر پڑھ لیتا ہے۔وہاں کام پر لندن کے گوروں، آئیرش، آسٹریلین اور ایک آدھ جاپانی سے بھی دوستی ہوئی۔ کچھ مقامی گوروں کے گھروں اور پارٹیوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ ان میں بہت سوں کی گفتگو بھی سنی مگر میں نے انہیں ایک دوسرے کی غیبت کرتے، دوسروں کی ٹانگیں کھینچتے یا جھوٹ بولتے ہوئے ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ اہل یورپ کی ان خوبیوں کے باوجود وہاں سوشل لائف اور خاندانی نظام تو ہے مگر 17 سال کی عمر کے بعد جب بچے ’’انڈر ایج‘‘نہیں رہتے تو انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل آزادی دے دی جاتی ہے یعنی وہاں کے نوجوان اپنا تعلق کسی محرم یا نامحرم سے جوڑنے، اپنا کاروبار کرنے، روزگار تلاش کرنے اور اپنے جمع خرچ کا حساب رکھنے میں مکمل طور پر آزاد ہوتے ہیں۔ یورپی لوگوں کے بچے اس عمر میں شادی یا شادی کے بغیر اپنے دوستوں کے ساتھ علیحدہ اور اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اس یورپین کلچر کے کچھ اپنے فائدے اور نقصانات ہیں۔ جو پاکستانی اور ایشیائی لوگ یورپ منتقل ہوتے ہیں ان کو مشرقی اور مغربی تہذیب کے دو پاٹوں کے درمیان پستے ہوئے بھی دیکھا۔ کچھ پاکستانیوں کے بچے یورپی کلچر کو اپناتے ہوئے کافی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے وہاں بہت سی پاکستانی فیملیوں کو اس شعر کے مصداق ’’گئے دونوں جہان کے کام سے ہم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے،نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے‘‘ اپنے سامنے گڑ گڑا کر روتے ہوئے دیکھا جو یہ کہتے پائے گئے کہ ہمارے پاس کار، ویلا، بنک بیلنس اور دیگر سب کچھ ہے مگر اولاد ہونے کے باوجود، ہمارے پاس نہیں ہے یعنی پاکستانی فیملیوں کی بہت سی اولادیں اپنے ’’جنسی پارٹنرز‘‘کے ساتھ رہتی ہیں!
مغربی اور اسلامی تہذیب کا بنیادی فرق ہی اخلاقی اقدار کا فرق ہے کہ ہماری مسلم امہ اور خصوصی طور پر اپنے پاکستانی ’’شریعت‘‘اور ان بنیادی اخلاقی اصولوں کی پابندی نہیں کرتے ہیں جن کا مسلمان ہونے کے ناطے وہ دعویٰ کرتے ہیں مثال کے طور پر قرآن پاک میں جھوٹ، غیبت، وعدہ خلافی اور منافقت وغیرہ جیسی اخلاقی برائیوں سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا ہے مگر یہی برائیاں اہل مغرب کے ہاں کم اور ہمارے ہاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ قرآن کریم غیبت کرنے کو اپنے سگے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دیتا ہے مگر ہماری شائد ہی کوئی ایسی محفل ہو جو کسی کی ’’غیب‘‘ کیئے بغیر سجتی ہو۔ اسی طرح جھوٹ بولنے والوں کے بارے قرآن کریم میں ’’لعنتہ اللہ علی الاذبین‘‘کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ قرآن پاک میں ’’لعنت‘‘واحد سخت لفظ ہے جو دروغ گوئی کرنے والوں کے بارے آیا ہے۔ حتیٰ کہ قرآن مقدس میں منافقین کے بارے ارشاد ربانی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہونگے حالانکہ منافقین مسلمانوں ہی میں سے ہوتے ہیں جو قرآن اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود منافقت کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔آج تک دنیا میں لگ بھگ 35 عالمی اور مقامی تہذیبیں گزری ہیں جن میں آثار قدیمہ کی ثقافتیں، ابلا، یونانی، اسلامی، افریقی تہازیب، بابل، سمیری، بازنطینی ثقافت، رومی، گندھارا، وادی سندھ کی تہذیب اور مغربی تہذیب زیادہ مشہور ہیں۔
(جاری ہے )

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: نہ ادھر کے رہے کے باوجود کرتے ہیں ویک اینڈ ہوتے ہیں ہے مگر

پڑھیں:

رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی

حافظ آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حافظ آباد میں رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ٹریفک وارڈن کی جانب سے ریلوے پھاٹک کے قریب رکشہ ڈرائیور کا چالان کیا گیا جس پر ڈرائیور مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق رکشہ ڈرائیور کا کہنا تھا کہ آئے روز کے بھاری جرمانوں سے تنگ ہوکر رکشے کو آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب ڈی پی او کامران حمید کا کہنا ہےکہ واقعے کے بعد متعلقہ ٹریفک وارڈن کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟