جے رام رمیش کا کہنا تھا کہ جب دنیا کے سامنے ہندوستان کی کثرت میں وحدت، جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کو نقصان پہنچایا جائے، تو یہ ترقی کی نہیں بلکہ گمراہی کی علامت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے سینیئر لیڈر اور شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں ہونے والی گورننگ کونسل کی میٹنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سلسلہ وار پوسٹس میں حکومت کے دعووں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب ملک میں جمہوری ادارے کمزور کئے جا رہے ہوں، اظہار کی آزادی خطرے میں ہو اور معاشی و سماجی ناانصافی بڑھ رہی ہو، تو ایسے میں "ترقی یافتہ ہندوستان" کی بات صرف ایک پُرفریب نعرہ رہ جاتی ہے۔

جے رام رمیش نے لکھا کہ آج وزیراعظم کی صدارت میں گورننگ کاؤنسل کی میٹنگ ہو رہی ہے، جس میں "ترقی یافتہ ہندوستان" کے ہدف کی پیشرفت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مگر جب حکومت خود اپنے الفاظ اور اعمال سے سماجی ہم آہنگی کے تانے بانے کو توڑنے میں مصروف ہو، تو کیسا ترقی یافتہ ہندوستان۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پارلیمان، عدلیہ، یونیورسٹیوں، میڈیا اور آئینی اداروں کی خودمختاری کو حکومت کی سہولت کے مطابق روندا جا رہا ہو، تو کیسا ترقی یافتہ ہندوستان۔

کانگریس کمیٹی کے لیڈر نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ہندوستان جن اقدار اور اصولوں کے لئے عالمی سطح پر جانا جاتا رہا ہے، انہی پر ایک منظم طریقے سے حملے ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب دنیا کے سامنے ہندوستان کی کثرت میں وحدت، جمہوری آزادیوں اور سماجی انصاف کو نقصان پہنچایا جائے، تو یہ ترقی کی نہیں بلکہ گمراہی کی علامت ہے۔ انہوں نے معاشی عدم مساوات پر بھی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ جب دولت چند ہاتھوں میں سمٹتی جا رہی ہو، غریب اور غریب تر ہوتا جا رہا ہو، اور متوسط طبقے کا جینا دوبھر ہو رہا ہو، تو کیا یہی ترقی ہے۔

جے رام رمیش نے اظہارِ رائے کی آزادی کے بعد آنے والے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا ترقی یافتہ ہندوستان ہے جہاں نہ صرف بولنے کی آزادی چھینی جا رہی ہے بلکہ بولنے کے بعد کی زندگی بھی خطرے میں ہے۔ انہوں نے نیتی آیوگ کو اب تک کی "سب سے ناکام ادارہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ بھی صرف ایک نمائش اور عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق یہ میٹنگ ان تلخ حقائق سے فرار کی کوشش ہے جن سے ملک کی اکثریت روزانہ دوچار ہو رہی ہے۔ جے رام رمیش کے اس بیان کو اپوزیشن کی اس وسیع تر تنقید کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جو موجودہ حکومت کے ماڈل آف گورننس کو ایک "تصویری تاثر" قرار دیتی ہے، جبکہ زمینی حقائق بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ترقی یافتہ ہندوستان ہوئے کہا کہ انہوں نے جا رہا

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع