Daily Mumtaz:
2026-07-24@16:03:39 GMT

چین کا ترقیاتی ماڈل مشرق کی نئی پہچان

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

چین کا ترقیاتی ماڈل مشرق کی نئی پہچان

تحریر: نعیم اختر

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں 27 مئی 2025 کو منعقد ہونے والا پہلا آسیان-چین-جی سی سی سربراہی اجلاس ایک ایسے تاریخی لمحے کے طور پر سامنے آیا ہے جو ایشیا اور خلیج کے درمیان تعاون کی ایک نئی داستان رقم کر رہا ہے، اس اجلاس نے نہ صرف عالمی سفارتی افق پر چین کے ترقیاتی وژن کو اجاگر کیابلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اب عالمی ترقی کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے،یہ اجلاس کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا دنیا کی تین اہم معاشی اور جغرافیائی اکائیاں — آسیان، چین اور خلیج تعاون کونسل — پہلی مرتبہ ایک ہی میز پر باقاعدہ شریک ہوئیں،چین نے ایک فعال شراکت دار کے طور پر اس اجلاس میں نہ صرف میزبانی میں حصہ لیا بلکہ اپنی پالیسی، وژن اور عملی تجاویز کے ذریعے اجلاس کی روح رواں ثابت ہوا،

 

چین کے وزیراعظم لی چھیانگ نے اپنی تقریر میں جس بصیرت کا مظاہرہ کیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ چین اب ترقیاتی سفارت کاری میں قیادت کے مقام پر فائز ہو چکا ہے، ان کے پیش کردہ تین مثالی ماڈلز — بین العلاقائی کھلے پن، ترقیاتی مراحل کی ہم آہنگی، اور ثقافتی انضمام — نہ صرف اجلاس کا لب لباب تھے بلکہ مستقبل کے علاقائی تعاون کی سمت بھی طے کرتے ہیں،اجلاس کا تھیم ’’مواقع کی مشترکہ تخلیق اور خوشحالی کی مشترکہ تقسیم‘‘ چین کے اس اصولی موقف کا عکاس ہے کہ ترقی کا فائدہ سب کو یکساں ملنا چاہیے، اور تعاون جیت-جیت (Win-Win) بنیاد پر ہونا چاہیے،چین، خلیج اور آسیان کے درمیان معاشی، ثقافتی اور تزویراتی ہم آہنگی اپنی نوعیت کی منفرد مثال بن چکی ہے۔ آسیان کے پاس نوجوان افرادی قوت اور قدرتی وسائل ہیں، خلیج کے پاس توانائی اور سرمایہ ہے اور چین کے پاس ٹیکنالوجی، صنعتی مہارت اور ایک وسیع و عریض کھلی مارکیٹ یہ تکمیلی خصوصیات ایک ایسے معاشی اتحاد کی تشکیل کر رہی ہیں جو مستقبل میں نہ صرف خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ عالمی اقتصادی منظرنامے کو بھی نئے سانچے میں ڈھال سکتا ہے،

 

یہ سہ فریقی اجلاس دراصل چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کو ایک نئی روح فراہم کرتا ہے، جب بیلٹ اینڈ روڈ، آسیان کا کنیکٹیویٹی ماسٹر پلان اور جی سی سی کا وژن 2030 ایک ہی فریم ورک میں آتے ہیں، تو وہ نہ صرف انفراسٹرکچر کی ترقی کو مہمیز دیتے ہیں بلکہ لوگوں، مصنوعات، سرمایہ اور خیالات کی آزادانہ نقل و حرکت کو بھی فروغ دیتے ہیں،یہ ماڈل ترقی کے ایک ایسے دور کا آغاز ہے جو مغربی طاقتوں کے سخت شرائط والے ماڈلز کے برعکس برابری، خودمختاری اور شراکت داری کے اصولوں پر مبنی ہے،صرف خلیج اور آسیان ہی نہیں، بلکہ چین بحرالکاہلی جزیرہ ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو ایک نئے اسٹریٹجک دور میں داخل کر چکا ہے۔ 28 مئی کو شیا من شہر میں ہونے والا ’’چین-بحرالکاہل وزرائے خارجہ اجلاس ‘‘اس بات کا غماز تھا کہ چین ان چھوٹے جزیرہ ممالک کو بھی ترقی کے سفر میں برابر شریک کرنا چاہتا ہے،

 

چین نہ صرف انہیں بنیادی ڈھانچے، طبی سہولیات اور تعلیم میں مدد فراہم کر رہا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی جیسے وجودی خطرات کے خلاف بھی مشترکہ تحقیق اور فنڈنگ کے ذریعے ان کا ساتھ دے رہا ہے، یہ ایک مثال ہے کہ چین صرف ’’سپر پاور‘‘بننے کی دوڑ میں نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے،بحرالکاہلی خطے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی کمی کو دیکھتے ہوئے چین اپنی’’ڈیجیٹل سلک روڈ‘‘ کے تحت فائبر آپٹک کیبلز، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سمارٹ سسٹمز متعارف کرا رہا ہے، اس سے جہاں مقامی معیشتیں مستحکم ہوں گی وہیں چین کو ایک جدید تکنیکی شراکت دار کے طور پر پہچانا جائے گا،چین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی پر اپنی شرائط مسلط نہیں کرتاوہ مقامی روایات، ترجیحات اور ترقیاتی حکمت عملیوں کا مکمل احترام کرتا ہے، یہ رویہ ان تمام ممالک کے لیے امید کی کرن ہے جنہیں ماضی میں قرضوں، امداد یا اتحادوں کے نام پر اپنی خودمختاری قربان کرنی پڑی،آج جب دنیا معاشی کساد بازاری، جغرافیائی کشیدگیوں اور ماحولیاتی بحرانوں سے نبرد آزما ہے، چین کا یہ وژن ایک متبادل راستہ فراہم کرتا ہے،یہ راستہ مفاہمت، شراکت داری، اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ہے،

 

چین نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی طاقت بننے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ عسکری اتحاد قائم کریںیا دوسرے ممالک پر اپنی بالا دستی قائم کریںترقی اور امن کا نیا چہرہ وہی ہے جو چین نے پیش کیا ہے — باہمی احترام، مساوات، اور عملی تعاون پر مبنی یہ نیا باب صرف چین کی کامیابی نہیںبلکہ گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک امیدایک راستہ اور ایک وژن ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے طور پر کہ چین چین نے چین کے ا سیان رہا ہے

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔

ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چین کا اے آئی بلیک بورڈ: استاد کی آواز اور لکھائی سمجھ کر سبق کو تھری ڈی ماڈل میں تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی
  • سام سنگ گلیکسی ایس 27 کے کیمرا فیچرز لیک، الٹرا ماڈل میں 50 میگا پکسل سینسر متوقع
  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا میرپور آزاد کشمیر کے لیے ایئرپورٹ، الیکٹرک بسوں اور ترقیاتی منصوبوں کا اعلان
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح پر تبادلہ خیال
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا