UrduPoint:
2026-07-24@03:41:45 GMT

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ صدر کا انتخاب

اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ صدر کا انتخاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2025ء) سابق جرمن وزیر خارجہ اور جرمنی کی ماحول پسند گرین پارٹی کی سیاستدان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے لیے بلامقابلہ منتخب کر لی جائیں گی۔ پیر کو اقوام متحدہ میں ہونے والے جنرل اسمبلی کے صدر کے الیکشن میں جرمنی کی سیاستدان انا لینا بیئر بوک کو ایک سال کے لیے صدارتی عہدے پر فائز کرنے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ماحول پسند گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والی جرمن سیاستدان انا لینا بیئربوک آئندہ ایک سال کے لیے اس اعلیٰ عہدے پر فائز رہیں گی۔ انا لینا اس ٹاپ پوزیشن کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ ان کا یہ عہدہ بنیادی طور پر رسمی نوعیت کا ہے اور اس سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریش کے کردار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

(جاری ہے)

193 رکن ممالک کے پلینری سیشن میں جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب دراصل رسمی حیثیت رکھتا ہے۔

انا لینا بیئربوک کے جنرل اسمبلی کے صدارتی دور کا سرکاری طور پر افتتاح 9 ستمبر کو ہوگا، جس میں جرمن سفارتکار باضابطہ اپنی صدارتی ذمہ داری سنبھالیں گی۔ اس کے فوراً بعد جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں دنیا بھر سے آ‌ئے ہوئے ریاستی مہمانوں کے باقائدہ اجلاس کا آغاز ہوگا۔

بلا مقابلہ انتخاب

جرمنی کی سابق وزیر خارجہ انالینا بیئربوک اقوام متحدہ کے سب سے بڑے ادارے کی صدر کے عہدے کے لیے بلا مقابلہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ 44 سالہ جرمن سیاست دان نے

گزشتہ ماہ جنرل اسمبلی کو بتایا تھا کہ وہ منتخب ہونے کی صورت میں اس عالمی ادارے میں شامل تمام ''بڑے چھوٹے‘‘ 193 رکن ممالک کی خدمت کریں گی اور ایک ''یونیفائر‘‘ یا ''متحد کرنے والے‘‘ کا کردار ادا کریں گے۔

جرمن سفارتکار کی ترجیحات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک سالہ صدارت کے دوران جرمن سیاستدان اپنی ترجیحات صنفی مساوات، ماحولیاتی تحفظ اور اقوام متحدہ کے پائیداری کے اہداف شامل پر مرکوز رکھیں گے۔

ادارت: عاطف بلوچ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جنرل اسمبلی کے اقوام متحدہ انا لینا کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن