اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد، اپوزیشن کو ناکامی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اپوزیشن نے یہ بل اس امید پر پیش کیا تھا کہ وہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کے متنازع معاملے پر ناراض جماعتوں کی مدد سے قبل از وقت انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کیا گیا پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے سے متعلق اپوزیشن کے بل پر ووٹنگ ہوئی۔ کنیسٹ کے 120 ارکان میں سے 61 نے بل کے خلاف جبکہ 53 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اپوزیشن نے یہ بل اس امید پر پیش کیا تھا کہ وہ وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی کے متنازع معاملے پر ناراض جماعتوں کی مدد سے قبل از وقت انتخابات کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
تاہم حکومت نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور نیتن یاہو کی قیادت میں حکومتی اتحاد نے بل کے خلاف ووٹ دے کر اپوزیشن کی چال کو روک دیا۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اب اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی تحلیل کا دوسرا بل پیش کرنے کیلیے کم ازکم 6 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔ یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی نے 2022ء میں دیگر 6 جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت قائم کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز