امریکہ کی اقوامِ متحدہ کے دو ریاستی حل کانفرنس سے دور رہنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جون2025ء)ایک خفیہ سفارتی دستاویز کے مطابق امریکہ نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی اس کانفرنس میں شرکت نہ کریں جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ممکنہ دو ریاستی حل پر بات چیت ہے۔
(جاری ہے)
امریکہ نے متنبہ کیا ہے کہ کانفرنس کے بعد اسرائیل کے خلاف کوئی بھی اقدام واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے خلاف تصور کیا جائے گا، اور اس کے سفارتی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
یہ سفارتی مراسلہ 10 جون کو بھیجا گیا جسے برطانوی خبر رساں ادارے نے دیکھا۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملک اس کانفرنس کے بعد اسرائیل کے خلاف مقف اختیار کرتا ہے تو وہ امریکی خارجہ مفادات کی خلاف ورزی شمار ہوگی اور اسے واشنگٹن کی جانب سے ممکنہ ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مزید یہ کہ امریکہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔