بچوں کے کینسر کے خلاف بڑی کامیابی:پاکستان عالمی مفت علاج پروگرام میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے صحت کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے بچوں کے کینسر کے مفت علاج سے متعلق عالمی پروگرام گلوبل پلیٹ فارم فار ایکسیس ٹو چائلڈہُڈ کینسر میڈیسنز (GPACCM) میں شمولیت حاصل کر لی ہے۔
اس اقدام کے تحت پاکستان میں کینسر میں مبتلا بچوں کو مفت ادویات کی فراہمی شروع کی جائے گی، جو ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوگی۔
یہ اعلان وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور سینٹ جوڈ چلڈرنز ریسرچ اسپتال کے اعلیٰ سطح وفد سے ملاقات کے بعد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جس سے کینسر کے شکار معصوم بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی۔
وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال 8,000 سے زائد بچوں میں کینسر کی تشخیص ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ان میں سے بڑی تعداد ادویات کی قلت، مالی مشکلات اور بروقت علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہے۔ کینسر ایک ایسا دشمن ہے جس کے خلاف جنگ صرف طبی وسائل سے نہیں، عالمی تعاون سے ہی جیتی جا سکتی ہے۔
اس پروگرام کی بدولت پاکستان کو نہ صرف مفت ادویات فراہم کی جائیں گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ماہرین کی تربیت، طبی سہولیات کی بہتری اور علاج کے جدید طریقوں تک رسائی بھی حاصل ہوگی۔ مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام پاکستان کو عالمی سطح پر صحت کی خدمات کے شعبے میں ایک نئے دور میں داخل کر دے گا۔
وزارت صحت کے مطابق مفت ادویات کی فراہمی ان ہزاروں بچوں اور ان کے والدین کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں جن کے پاس مہنگے علاج کی استطاعت نہیں۔ یہ قدم نہ صرف اموات کی شرح کم کرے گا بلکہ کینسر کی شرحِ شفایابی کو بھی نمایاں طور پر بہتر بنائے گا۔
ملک بھر کے ماہرینِ صحت نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام پاکستان میں پیڈیاٹرک اونکولوجی (بچوں کے کینسر) کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ علاج کی جدید سہولتیں اور عالمی معیار کی ادویات سے نہ صرف موجودہ مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ مستقبل میں صحت کی مجموعی صورتِ حال میں بھی بہتری آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش