ایرانی سپریم لیڈر کو مارنے کا منصوبہ تھا، مگر موقع نہیں مل سکا، اسرائیلی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 27th, June 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہےکہ ایرانی سپریم لیڈر کو مارنا چاہتے تھے لیکن آپریشنل موقع نہیں ملا۔
اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ خامنہ ای کو معلوم تھاکہ ان پرحملہ ہونے والا ہے اس لیے وہ روپوش ہوگئے اور خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے نئےکمانڈرز سے رابطہ ختم کردیا تھا۔
اسرائیلی وزیردفاع نے انکشاف کیا کہ اسرائیل ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو مارنا چاہتا تھا لیکن آپریشنل موقع نہیں مل سکا۔
اسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ ایران جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرتا ہے تو دوبارہ حملہ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے امریکا سےگرین سگنل حاصل ہے تاہم ایسی صورتحال نظر نہیں آرہی کہ حملےکے بعدایران جوہری تنصیبات کوبحال کرےگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔