Express News:
2026-06-03@07:02:02 GMT

اسرائیل کا قطر پر حملہ اور امریکا کی دہری پالیسی

اشاعت کی تاریخ: 21st, September 2025 GMT

9 ستمبر 2025 کو مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھرکشیدگی کی لہر دوڑگئی جب اسرائیل نے قطرکے دارالحکومت دوحہ میں فضائی حملہ کیا۔ اس حملے کا مقصد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے چند سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنانا تھا، جن میں خلیل الحیہ کے بیٹے اور ان کے قریبی معاون بھی شامل تھے۔

اس واقعے نے خطے کے امن کو بری طرح متاثرکیا۔ اس واقعے کے سبب امریکا کے دہرے معیار اور سامراجی انداز پر انگلیاں اٹھیں۔ قطر نے اسرائیلی حملے کو قومی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف قرار دیا جو کہ سو فیصد درست ہے۔ قطری حکومت نے اسے کھلی ریاستی دہشت گردی قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی اقدام پر فوری ایکشن لے۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور الجزائر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ عرب لیگ نے اس حملے کو نہ صرف قطرکی خود مختاری پر حملہ بلکہ پوری عرب دنیا کے خلاف ایک جارحیت قرار دیا۔ 

اس سنگین صورتحال پر پاکستان نے ایک ذمے دار اور اصولی ملک کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے قطر پر اسرائیلی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور ایک خود مختار ریاست کی سالمیت کی پامالی کہا۔ وزیراعظم کا فوری دورہ قطر اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان، اسلامی ممالک کی خود مختاری اور سالمیت کے بارے میں ٹھوس موقف رکھتا ہے اور ان کے ساتھ قدم قدم پرکھڑا ہے۔ دوسری جانب یہ حملہ پاکستان کے لیے بھی باعث تشویش ہے کیونکہ اس میں امریکا کا دہرا معیار واضح ہوا ہے۔ امریکا، قطرکے ساتھ تجارتی معاہدات میں مصروف تھا جب کہ اسی دوران اسرائیل نے جارحیت دکھائی۔ جس پر دنیا کی سب سے بڑی ریاست کی نیت واضح ہوگئی ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ 

آج کل امریکا، پاکستان کی تعریفیں کرتا نہیں تھک رہا ہے۔ مسلسل پاکستان کے حق میں بیان دے رہا ہے، لٰہذا حالیہ واقعے سے پاکستان کو سبق لینا ہوگا کیونکہ امریکا جیسا نظرآتا ہے ویسا ہے نہیں۔ اس لیے پاکستان کو بہت محتاط ہوکر اپنے کارڈز کھیلنے ہوں گے،کیونکہ دھوکا دینا، امریکا کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے اور وہ اسے غیر اخلاقی بھی نہیں سمجھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس حملے کی مذمت ہوئی مگر امریکا نے اسرائیل کا نام لیے بغیر اس کی مذمت کی، جس سے دہری پالیسی کی نشاندہی ہوئی۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حملے کو بلاجواز قرار دیا اور قطرکی خود مختاری کے حق میں موقف اختیار کیا، مگر عملی طور پر امریکا نے اسرائیل کی حمایت جاری رکھی ہے۔ 
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے قطر سے الجزیرہ نیوز چینل کی کوریج کو کم کرنے کی درخواست نے بھی امریکا کی دہری پالیسی پر سوالات اٹھا دیے۔ اس سے یہ تاثر ملا کہ امریکا قطر کی داخلی آزادی میں مداخلت کر رہا ہے۔

قطرکی حیثیت خطے میں ایک معتدل ملک اور ثالث کے طور پر ہے جو حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں کے ساتھ رابطے کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی حملے اور امریکا کے متضاد رویے نے قطر کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے جہاں وہ اپنے قومی مفادات اور علاقائی ذمے داریوں کے بیچ توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حماس نے کہا ہے کہ اس جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ مصر اور اردن نے خطے میں امن کی کوششوں کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا، جب کہ ایران نے اسرائیل اور امریکا کو خطے میں انتشار پھیلانے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ عالمی برادری میں بھی اس حملے کے خلاف تشویش پائی گئی اورکئی ممالک نے اسرائیل سے اس کارروائی کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔
یہ واقعہ عالمی طاقتوں کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔

اقوام متحدہ جیسے ادارے جب اپنی ذمے داری پوری نہیں کرتے یا طاقتور ممالک کے دباؤ میں آ جاتے ہیں تو عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کے ذخائر کو بھی سنگین نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اسرائیل کا قطر پرحملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں طاقتور ممالک اپنے قومی مفادات کے لیے دوسرے ممالک کی خود مختاری کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات عالمی امن کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور امن کی کوششوں کو سبوتاژکرتے ہیں۔

عالمی دفاعی اور بین الاقوامی معاملات پرگہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دوحہ پر حملہ ایک ’’ واضح پیغام‘‘ تھا کہ اسرائیل دوسرے عرب ممالک بالخصوص مصرکو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس تناظر میں مصری اپوزیشن رہنما طارق حبیب کا کہنا ہے کہ ریاض اور قاہرہ پر بھی حملہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اسرائیل کھلی جارحیت پر آمادہ ہے اور امریکا اس کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ 

یہ صورتحال عالمی امن کے لیے مضر ہے۔ دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی طاقتیں انصاف، دوسرے ممالک کی خود مختاری اور امن کے اصولوں کو مقدم رکھیں، اگر عالمی برادری نے اس مسئلے کو نظر اندازکیا تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے عمل کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے اور علاقے میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے جو عالمی سطح پر سیاسی، اقتصادی اور انسانی بحران کو جنم دے گی۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی خود مختاری بین الاقوامی اور امریکا نے اسرائیل قرار دیا کے ساتھ اس حملے رہا ہے امن کے ہے اور کے لیے

پڑھیں:

خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار---فائل فوٹو

نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

پاکستان خطے کی بڑی طاقت اور یورپی یونین کا شراکت دار ہے: کایا کالاس

یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔

نائب وزیرِ اعظم  نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار