بی جے پی ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، رہنما نیشنل کانفرنس
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
اجے کمار سدھوترا کا کہنا تھاکہ بی جے پی کو اس بارے میں بات چیت کرنی چاہیے، محض یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری اور سابق وزیر اجے کمار سدھوترا نے علاقے کا ریاستی درجہ بحال کرنے میں لیت و لعل سے کام لینے پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو کٹری تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ذرائع کے مطابق اجے کمار سدھوترا نے ایک بیان میں کہا کہ بی جے پی ریاستی درجہ بحال کرنے کے حوالے سے دھوکہ دہی سے کام لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارٹی لائنوں، مذہبی عقائد، علاقائی شناختوں اور ذات پات کی تقسیم سے بالاتر ہے۔ سدھوترہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو ایک عرصے سیاسی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے کو ترقی اور دیگر کئی حوالوں سے نمایاں نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی نے ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں پارلیمنٹ میں بیانات دیے لیکن اب وہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، اسے اس بارے میں بات چیت کرنی چاہیے، محض یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بی جے پی کہا کہ سے کام
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔