فضل الرحمان جلد کے پی حکومت کا جنازہ پڑھائیں گے، جے یو آئی کا سانحہ سوات پر وزیراعلیٰ سے استعفے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سینیئر رہنما حافظ حمد اللہ نے سانحہ سوات پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں حکومت نہیں بلکہ یہ زندہ سیاسی لاشوں کا جنازہ ہے، اب اس حکومت کے دفنانے کا وقت آچکا ہے، مولانا فضل الرحمان اس کا سیاسی جنازہ پڑھائیں گے۔
سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ سوات میں ایک خاندان کے 15 سیاح سیلاب کی نذر ہوگئے جوایک افسوسناک اور درد ناک واقعہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ بدقسمت سیاحوں میں بچے، بوڑھے اور خواتین شامل تھیں، اور یہ پھنسے ہوئے افراد گھنٹوں تک مدد کے لیے پکارتے رہے۔
حافظ حمداللہ نے کہاکہ سیاحوں کی مدد کے لیے نہ ریسکیو ہیلی کاپٹر آیا نہ فوج نیوی اور نہ کوئی ایمرجنسی ریلیف آیا، سب غائب تھے۔
انہوں نے کہاکہ کھربوں کا بجٹ، اربوں روپے کی غیرملکی امداد کہاں خرچ ہورہی ہے، اور سینکڑوں ہیلی کاپٹرز کہاں غائب تھے؟ کیا ہیلی کاپٹر عوام پر صرف شیلنگ اور بمباری کرنے کے لیے رکھے ہیں؟
جے یو آئی رہنما نے کہاکہ اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ اور گنڈاپور صوبائی حکومت ہے، کیا خیبرپختونخوا کی حکومت اور گنڈاپور صرف 11 کروڑ کے بسکٹ کھانے کے لیے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اس سانحہ پر فوری مستعفی ہو جانا چاہیے، کیوں کہ صوبے میں حکومت نہیں بلکہ یہ زندہ سیاسی لاشوں کا جنازہ ہے، اب اس حکومت کے دفنانے کا وقت آچکا ہے، مولانا فضل الرحمان اس کا سیاسی جنازہ پڑھائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 15 افراد دریائے سوات میں بہہ گئے تھے، تاہم کوئی ان کی مدد کے لیے نہ آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews استعفے کا مطالبہ حافظ حمداللہ خیبرپختونخوا حکومت سانحہ سوات علی امین گنڈاپور مولانا فضل الرحمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفے کا مطالبہ حافظ حمداللہ خیبرپختونخوا حکومت سانحہ سوات علی امین گنڈاپور مولانا فضل الرحمان وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز انہوں نے کہاکہ فضل الرحمان کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔