کراچی:

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کے لیے کردار ادا کیا وہ قوم کے مجرم ہیں اور ہم نے اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ کیا ہے۔

جناح آڈیٹوریم سٹی کورٹ میں اسلامک لائرز موومنٹ کراچی کے زیر اہتمام سیمینار بعنوان ”خطبہ حجۃ الوداع، بنیادی انسانی حقوق کے سرخیل، محمد عربی“ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع بنیادی انسانی حقوق کی سب سے بہترین مثال ہے، امریکا دنیا بھر میں انسانی حقوق و جمہوریت کی بات کرتا ہے لیکن خود ہیرو شیما اور ناگا ساکاکی پر بم باری کی اور آزادانہ ایٹم بم استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے ویت نام، افغانستان اور عراق پر چڑھائی کی، 2006 میں حماس نے جمہوری طریقے سے کامیابی حاصل کی لیکن امریکا اور اسرائیل نے اسے چلنے نہیں دیا اس طرح جب الجزائر میں اسلامی فرنٹ نے 80 فیصد ووٹ لے لیے تو ان کی حکومت نہیں بننے دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے عمل میں جرنلسٹ اور ہیومن رائٹس ورکرز بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں، یہ بات سمجھ لی جائے کہ حماس کو مائنس کر کے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکے بغیر حقیقی اور پائیدار امن کبھی قائم نہیں ہو سکتا، اسرائیل بدمست ہاتھی بنا ہوا ہے اسے روکنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حماس تو 1978میں وجود میں آئی، اسرائیل تو 1938 اور 1940 میں بھی فلسطین پر فوج کشی کر چکا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بھی حماس کو اپنی سر زمین پر قبضہ کرنے والے اسرائیل کے خلاف ہتھیار اٹھا کر جدوجہد کرنے کی اجازت ہے، پاکستان میں حماس کا دفتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آمرانہ حکومتوں، وڈیروں و جاگیرداروں کا تسلط قائم رہا ہے، عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم اور مسائل میں جکڑا گیا ہے، پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم بنی ہوئی ہے، پورے سندھ اور کراچی میں جو سسٹم کام کر رہا ہے وہ اسلام آباد سے کنٹرول ہو رہا ہے، اس شہر کا حق مارا جا رہا ہے جو منی پاکستان ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، شہر بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، سڑکوں کی خستہ حالی، سیوریج کے ناقص نظام سمت بے شمار مسائل کا شکار ہے، صرف کراچی بار اور سٹی کورٹ کے اطراف کا جائزہ لیں، پورے شہر کی ابتر حالت کا اندازہ ہو جائے گا۔

کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک ریڈ لائین لے لیں، پوری یونیورسٹی روڈ کھود کر رکھ دی مگر وہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہی، گرین لائین کا بقیہ حصہ بھی مکمل نہیں ہو رہا ہے، حکومت سندھ موٹر سائیکلیں تقسیم کر رہی ہے لیکن پہلے شہر کی سڑکیں تو ٹھیک کرے۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے بھی فراڈ کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی صرف اپنے ”سسٹم“ کو مضبوط کرنا جانتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے لیے جن لوگوں نے کردار ادا کیا وہ قوم کے مجرم ہیں، ہم نے اس کی مخالفت کی اور اس کے خلاف عدالت میں بھی کیس فائل کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور دھوکے کی بنیاد پر کوئی نظام اور حکومت زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے، بنگلہ دیش میں 17سال سے ایک حکومت قائم کی تھی اور لوگوں کے اندر اس حکومت کے خلاف لاوا پک رہا تھا جب لاوا پھٹ پڑا تو پوری دنیا نے حسینہ واجد کا انجام دیکھا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں بڑی تحریک شروع کرنے والی ہے 21 تا 23 نومبر لاہور میں ہونے والا ”اجتماع عام“ اس تحریک کا آغاز ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ کے خلاف رہا ہے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن