Jasarat News:
2026-07-24@06:08:54 GMT

جامعات کی زبوں حالی!

اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

جامعات کی درجہ بندی کرنے والے عالمی ادارے کیو ایس (QS) نے جامعات کی درجہ بندی 2026 جاری کردی ہے، جس کے مطابق پاکستان کی ایک بھی جامعہ دنیا کی 350 بہترین جامعات میں جگہ بنانے میں ناکام رہی لیکن دو وفاقی جامعات قائد اعظم یونیورسٹی 354، اور نیشنل یونیورسٹی سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) 371 نمبر پر جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں، جب کہ ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی، جامعہ کراچی 1001 جامعات میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے تاہم سندھ کی کوئی اور جامعہ 1500 جامعات میں بھی جگہ نہیں بناسکی۔ جامعات کی درجہ بندی کرنے والے ادارے کیو ایس 2026 کی جنوبی ایشیا کی جامعات کی درجہ بندی رواں سال کے آخر یا آئندہ سال جنوری میں جاری کرے گا لیکن 2025 جنوبی ایشیا کی درجہ بندی میں جامعہ کراچی 58 ویں نمبر پر تھی جب کہ آغا خان یونیورسٹی کا نمبر 62 اور آئی بی اے کراچی کا درجہ 70 واں درجہ تھا۔ اقراء یونیورسٹی کا 110 واں، آئی بی اے سکھر کا 120 واں، این ای ڈی یونیورسٹی کا 131 واں، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا 140 واں، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو کا 168 واں، ضیاالدین یونیورسٹی کا 240 واں، سندھ یونیورسٹی جامشورو کا 263 واں اور یونیورسٹی آف بلوچستان کا 278 واں نمبر تھا۔ دنیا بھر میں مختلف شعبوں کے حوالے سے ممالک کی کارکردگی کی جانچ اور اس کے جائزے کے لیے متعدد عالمی ادارے سروے کرتے ہیں اور پھر ان سروے کی روشنی میں ممالک کی درجہ بندی شایع کی جاتی ہے، جس کا مقصد ملکوں کی معاشی، سماجی، سیاسی، تعلیمی، ماحولیاتی کارکردگی کا موازنہ کرنا ہوتا ہے۔ ہر سال کرپشن، معاشی وانسانی ترقی، تعلیم، صحت، ماحولیات، امن وامان، فریڈم انڈیکس، سائنس و ٹیکنالوجی، کاروباری سہولت، سیاحت اور دیگر شعبوں سے متعلق سروے کیے جاتے ہیں بدقسمتی سے ان تمام شعبوں میں پاکستان کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ دنیا بھر کی جامعات کی درجہ بندی میں کسی یونیورسٹی کا مقام طے کرنے کے لیے چند بنیادی عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اہم تعلیمی معیار، تحقیقی کام، بین الاقوامی شہرت، فیکلٹی کی قابلیت، نوکریوں میں گریجویٹس کی کارکردگی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں شراکت شامل ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات تحقیقی معیار کے فقدان، فیکلٹی کی تربیت میں کمی، سیاسی مداخلت، ناکافی بجٹ اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے ان فہرستوں میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کا تعلیمی بجٹ نہایت کم ہے، جس سے جامعات جدید تحقیق، تدریس اور عالمی معیار کے انفرا اسٹرکچر سے محروم ہیں۔ سندھ کی جامعات، خاص طور پر دیہی علاقوں کی، پسماندہ ہیں جہاں وسائل کی تقسیم غیر مساوی اور سیاسی اثر رسوخ تعلیمی معیار کو متاثر کرتا ہے۔ اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان کی جامعات میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ انتہائی محدود ہے، پاکستان میں ریسرچ اینڈڈو یلپمنٹ پر خرچ کی جانے والی کل رقم جی ڈی پی کا صرف 0.

16 فی صد ہے جو کہ عالمی اوسط سے انتہائی کم ہے۔ ہرچند کہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، قائد اعظم یونیورسٹی اور کراچی یونیورسٹی اپنے محدود وسائل کے باوجود بہتر کاکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے تاہم پاکستان کی جامعات کو عالمی درجہ بندی میں بلند مقام دلانے کے لیے ضروری ہے کہ نظریہ حیات اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ مربوط، جامع اور موثر قومی تعلیمی پالیسی مرتب کی جائے، اساتذہ کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے، جامعات میں طلبہ و اساتذہ میں تحقیق کا رجحان فروغ دیا جائے، جامعات کو انڈسٹریز کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے چاہئیں تاکہ تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیاں مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ بین الاقوامی تحقیق سے جْڑے رہنے کے لیے آن لائن تحقیقی ذرائع، ای جرنلز، اور ڈیجیٹل سسٹمز تک بآسانی رسائی بھی ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کو انتظامی اور مالی خودمختاری دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی ترقی کی راہیں خود طے کر سکیں اور بیرونی سیاسی دباؤ سے محفوظ رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اساتذہ کے تقرر اور طلبہ کے داخلے کے تمام مراحل میں مکمل شفافیت اور میرٹ کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جامعات کی درجہ بندی یونیورسٹی کا یونیورسٹی ا پاکستان کی جامعات میں کی جامعات کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق قومی کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹرافی کی رونمائی کی اور اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں۔

ٹرافی کی رونمائی ٹرینیڈاڈ میں واقع برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کی گئی۔

پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز

پاکستان اور ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کے ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی

کپتان بابر اعظم اور ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹیسٹ سیریز کے ٹرافی کی رونمائی کی

ٹرافی کی رونمائی برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کی گئی

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 25… pic.twitter.com/jw64f4bqZp

— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 24, 2026

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 25 جولائی سے شروع ہوگا۔ یہ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ہوگا۔

 اس سے قبل اس گراؤنڈ میں محدود اوورز کے انٹرنیشنل میچز سمیت ریجنل فرسٹ کلاس میچز کھیلے جا چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت