بحریہ ٹائون: ایس بی سی اے کمیٹی کیخلاف درخواست پرحکم امتناع
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے سروے کے لیے ایس بی سی اے کی تشکیل کردہ کمیٹی کے خلاف دائر درخواست پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے ڈی جی ایس بی سی اے، ایم ڈی اے اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیے اور 28 اگست تک جواب طلب کرلیا بحریہ ٹاؤن کراچی نے ڈی جی ایس بی سی اے کی جانب سے 11 رکنی کمیٹی کی تشکیل کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل فاروق ایچ نائیک ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی جی ایس بی سی اے کو ایسی کمیٹی تشکیل دینے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں، کمیٹی کی تشکیل غیر قانونی ہے اور اس کے ذریعے بحریہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ہزاروں افراد کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ نہ صرف سروے کا کوئی جواز نہیں بلکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کس بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے تو سروے ہونا چاہیے، خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں وہ بعد کی بات ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا پہلے کبھی بحریہ ٹاؤن کا سروے ہوا؟ وہاں عمارتیں کیسے بنائی گئیں؟عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے یہ مؤقف بھی سنا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہوچکا ہے اور بحریہ ٹاؤن تمام اداروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ عدالت نے فریقین سے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے بحریہ ٹاو ن
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت