ترکی: پیغمبر اسلام کا خاکہ بنانے والا کارٹونسٹ حراست میں
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 جولائی 2025ء) ترکی میں طنزیہ لیمن میگزین کے لیے کام کرنے والے ایک کارٹونسٹ کو پولیس نے پیر کے روز اس وقت پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا، جب پیغمبر اسلام سے متعلق ایک کارٹون پر تنازعہ برپا ہو گیا۔
ملک کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نے 26 جون کو میگزین کے شائع کردہ ایک کارٹون کی "تحقیقات کا آغاز کیا ہے" جس میں "مذہبی اقدار کی کھلے عام تذلیل کی گئی ہے۔
"پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ اس میں "ملوث افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔" جن افراد کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں اس میں لیمن میگزین کے ایڈیٹر ان چیف اور منیجنگ ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔
(جاری ہے)
ترکی: ممنوعہ ’پرائیڈ پریڈ‘ میں شریک درجنوں افراد گرفتار
اس سے قبل ترکی کے وزیر انصاف یلماز طنش نے ایک بیان میں کہا کہ پیغمبر اسلام کی تصویر کشی کرنے والے کارٹون مذہبی حساسیت اور سماجی ہم آہنگی کی توہین ہیں۔
پیغمبر اسلام کے کارٹون پر غم و غصہجو کارٹون سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا گیا ہے، اس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ، پیغمبر اسلام اور ایک دیگر پیغمبر موسیٰ فضا میں اس وقت ایک دوسرے سے مصافحہ کر رہے ہیں، جب ایک شہر پر میزائل گر رہے ہیں۔
وزیر انصاف نے لکھا، "کسی بھی طرح کی آزادی یہ حق نہیں دیتی کہ مقدس اقدار، کسی عقیدے کو بدصورت انداز میں مزاح کا موضوع بنایا جائے۔
"ترکوں کی جرمن شہریت کے لیے درخواستیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے تصدیق کی کہ کارٹونسٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کارٹونسٹ کو ہتھکڑیاں لگا کر لے جایا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ نے کارٹونسٹ کے ابتدائی ناموں کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ "ڈی پی نامی شخص، جس نے یہ گھٹیا ڈرائنگ بنائی تھی، اسے پکڑ لیا گیا ہے اور تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
بے شرم افراد قانون کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔"اگرچہ ترکی میں ایک سیکولر قانونی نظام ہے، جس نے 1920 کی دہائی میں اسلامی قانون کو ختم کر دیا تھا۔ تاہم اگر کوئی شخص "عوام کے کسی فرقے کی مذہبی اقدار کی کھلم کھلا توہین کرتا ہے"، تو قانون کے تحت کسی بھی شخص کو ایک سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔
بھارت نے چینی، ترک خبر رساں ایجنسیوں کو بلاک کر دیا
کارٹون 'پیغمبر کی تصویر کشی نہیں' میگزین کا دعویترک میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر اس تصویر کے پھیلنے کے بعد کئی درجن مظاہرین استنبول میں لیمن کے دفتر کے باہر جمع ہو گئے۔
البتہ میگزین نے کسی بھی طرح سے جذبات مجروح ہونے کے لیے سوشل میڈیا پر معافی نامہ جاری کیا اور کہا کہ کارٹون کو غلط سمجھا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارٹونسٹ کا مقصد اسلام کی توہین کرنے کے بجائے "اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک مسلمان شخص کے دکھ کو" اجاگر کرنا تھا۔
میگزین نے کہا کہ "مسلمانوں میں پیغمبر کی تعظیم کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نام محمد ہے۔ اس کارٹون میں پیغمبر کو نہیں دکھایا گیا ہے اور نہ ہی اس میں مذہبی اقدار کا مذاق اڑایا گیا ہے۔"
میگزین نے کہا کہ بعض افراد اس کی "دانستہ طور پر کچھ ایسی تشریحات کر رہے ہیں، جو بدنیتی پر مبنی" ہیں۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیغمبر اسلام کہ کارٹون کے لیے کہا کہ گیا ہے
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔