جنوبی افریقا کو زمبابوے کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل بڑا دھچکا، کیشو مہاراج سیریز سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہرارے: جنوبی افریقا کے تجربہ کار اسپنر کیشو مہاراج انجری کے باعث زمبابوے کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز سے باہر ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کو زمبابوے کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز کے دوسرے اور فیصلہ کن معرکے سے قبل ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا، جب عبوری کپتان اور تجربہ کار اسپنر کیشو مہاراج گروئن انجری کا شکار ہوکر سیریز سے باہر ہوگئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تفصیلات کے مطابق بائیں ہاتھ کے اسپنر کیشو مہاراج کو بولاوایو ٹیسٹ کے تیسرے دن بیٹنگ کرتے ہوئے بائیں گروئن میں تکلیف محسوس ہوئی، جس کے بعد طبی معائنے کی غرض سے وہ فوری طور پر جنوبی افریقہ روانہ ہو رہے ہیں۔
ٹیم مینجمنٹ کے مطابق کیشو مہاراج کی انجری کی نوعیت کا مکمل جائزہ وطن واپسی پر لیا جائے گا، مہاراج کی غیر موجودگی میں آل راؤنڈر ویان ملڈر کو دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے قیادت سونپ دی گئی ہے، جو اتوار سے شروع ہوگا۔
دوسری جانب جنوبی افریقی کی ٹیم انتظامیہ نے سینیورن متھوسامی کو اسکواڈ میں کیشو مہاراج کے متبادل کے طور پر شامل کر لیا ہے۔
جنوبی افریقی ٹیم نے سیریز کے درمیان تیز گیند باز لنگی نگیدی کو اسکواڈ سے ریلیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ یہ اقدام ان نوجوان فاسٹ بولرز کو مزید مواقع دینے کے لیے کیا گیا ہے، جنہوں نے پہلے ٹیسٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ جنوبی افریقہ نے زمبابوے کے خلاف ابتدائی ٹیسٹ میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے کوئنز اسپورٹس کلب میں 328 رنز سے فتح حاصل کی تھی اور سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: زمبابوے کے خلاف کیشو مہاراج کے مطابق
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔