لاہور؛ گھر میں کروڑ سے زائد مالیت کی ڈکیتی، سابقہ ڈرائیور واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور:
جوہر ٹاؤن میں 1 کروڑ 20 لاکھ مالیت کی ڈکیتی کے پیچھے گھر کا سابقہ ڈرائیور واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا۔
تھانہ جوہر ٹاؤن پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے ٹریس کرکے 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق سابقہ ڈرائیور نے اپنے دوست سے مل کر گھر میں چوری کا پلان بنایا، گھر کے دیگر افراد کی غیر موجودگی میں ڈرائیور نے دوست سے مل کر واردات کی۔
ملزمان سے 40 ہزار سعودی ریال، 25 تولے سونا، گھڑیاں اور پستول برآمد کر لیے۔ ملزمان میں سابقہ ڈرائیور علی رضا اور راشد شامل ہیں۔
ایس پی صدر ڈاکٹر غیور احمد خاں کے مطابق ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس پی صدر ڈاکٹر غیور احمد خاں نے ایس ایچ او جوہر ٹاؤن محسن شہزاد اور پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ عوام الناس کے جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان سابقہ ڈرائیور
پڑھیں:
گلشن معمار میں دوران ڈکیتی شہری قتل
گلشن معمارناردرن بائی پاس پیر بخش سموں گوٹھ میں دوران ڈکیتی ملزمان نے ایک شہری کو قتل کردیا جس کا مقدمہ مقتول کے کزن کی مدعیت میں گلشن معمارتھانےمیں درج کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے میں 15سے16نامعلوم مسلح ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ گلشن معمار تھانے کے علاقے ناردرن بائی پاس پیر بخش سموں گوٹھ میں دوران ڈکیتی 58سالہ نور بہادر ولد حیات خان کے قتل کامقدمہ مقتول کے کزن اسامہ کی مدعیت میں گلشن معمارتھانے میں درج کیا گیا۔
مقدمے میں قتل اور ڈکیتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں جبکہ مقدمے میں 15 سے 16 نامعلوم مسلح ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی مقدمہ اسامہ نے پولیس کو بتایا کہ میں لکڑی کا ٹال چلاتا ہوں، ہمارے گھر والد کی فوتگی پرافسوس کیلئے گاؤں سے رشتہ دار آئے تھے۔
بدھ کی صبح ساڑھے 10 بجے کے قریب ہم سب لوگ،گھر والے اورمہمان رشتہ دار سوئے ہوئے تھے کہ 15 سے16مسلح صورت شناس لکڑی کے ٹال میں داخل ہوئے اورمجھ سمیت4 افراد کو نیند سے جگایا۔ ہم سے جیب میں موجود رقم، موبائل فونز چھینے۔
مسلح ملزمان نے کہا کہ گھر کا گیٹ کھلواؤ اور ڈیرے کا گیٹ کھلواؤ اورڈیرے کی کنڈی بجائی جسے نور بہادرنے ڈیرے کا گیٹ کھولاتو وہ لوگ ڈیرے میں داخل ہو گئےاورایک دم میرے کزن نوربہادرپرفائر کیا۔
گولی نوربہادر کے سرپرلگی جوکہ شدید زخمی ہو کر زمین پرگرگیا اوروہ لوگ ڈیرے کو باہر سے کنڈی لگا کر پیدل فرارہوگئے۔ ہم لوگوں نے 15 پولیس کو کال کی۔ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ہم لوگ نور بہادر کوزخمی حالت میں نجی اسپتال لیکر روانہ ہوئے اور بعدازاں نور بہادر کو سول اسپتال لیکر گئے جہاں نور بہادر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گیا۔
اسامہ نے سکیورٹی حکام سے ملزمان کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔