امریکی صدر ٹرمپ سمیت سب لوگ بات چیت وزیراعظم سے نہیں مقتدر طاقت سے کرتے ہیں، مفتاح اسماعیل
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پریس کانفرنس سے خطاب میں رہنما عوام پاکستان پارٹی نے کہا کہ میں شریف برادران کا احترام کرتا ہوں، مسلم لیگ ن نے ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ چھوڑ دیا اس لیے میری راہیں ان سے جدا ہوگئی ہیں، اگر مسلم لیگ ن اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ پر واپس آجائے تو ہماری جماعت ن لیگ سے سیاسی اتحاد کرسکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عوام پاکستان پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سمیت سب لوگ بات چیت وزیراعظم سے نہیں مقتدر طاقت سے کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں ملکی مسائل کے حل میں طاقت ور لوگ کردار ادا کرتے ہیں، مسلم لیگ (ن) ووٹ کو عزت دینے کے بیانیہ پر آجائے تو عوام پاکستان پارٹی کا ن لیگ کے ساتھ سیاسی اتحاد ہوسکتا ہے، میں الزامات کی سیاست نہیں کرتا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت نشوونما پروگرام کے حوالے سے طارق فضل چوہدری اور انوشہ رحمن کے الزامات غلط ہیں، ان کو مسترد کرتا ہوں، دونوں رہنما مجھ سے معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف عدالت میں جاؤں گا۔ وہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سانحہ گودار بارشوں سمیت مختلف حادثات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کرتا ہوں، جب لوگ سیلاب میں ڈوب رہے تھے تو پنجاب حکومت کا کارکردگی بھی سیلاب میں بہہ گئی ہے، سندھ اور کے پی کے حکومتوں کا کارکردگی کئی نظر نہیں آتی ہے، سینیٹر انوشہ رحمان کے سوال پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مجھ پر الزامات لگائے، بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک نشوونما پروگرام کا بجٹ 5 کروڑ بجٹ تھا جس کے بجٹ میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا ہے، اس عمل پر یہ الزام لگایا کہ میرا اس پروگرام میں کوئی مقصد یا فائدہ ہے، اس پروگرام کے بجٹ میں اضافے کے وقت 2019ء میں جیل میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے بجٹ میں اضافے سے وفاقی وزرا خزانہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ میں شریف برادران کا احترام کرتا ہوں، مسلم لیگ ن نے ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ چھوڑ دیا اس لیے میری راہیں ان سے جدا ہوگئی ہیں، اگر مسلم لیگ ن اپنے ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ پر واپس آجائے تو ہماری جماعت ن لیگ سے سیاسی اتحاد کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اختیارات سے برنس کمیونٹی خوف زدہ ہے، اس پر مشاورت ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ سمیت سب لوگ بات چیت وزیراعظم سے نہیں مقتدر طاقت سے کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں ملکی مسائل کے حل میں طاقتور لوگ کردار ادا کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نے ووٹ کو عزت پروگرام کے مسلم لیگ ن کرتا ہوں کرتے ہیں
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔