اتنا ظالم ہے کہ مظلوم نظر آتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
کسی بھی نظریاتی و عسکری حریف کو محض پچھاڑنے کی خواہش سے کچھ نہیں ہوتا اگر آپ کو حریف کی حکمتِ عملی اور اس کے پیچھے کارفرما ذہن کا ادراک نہ ہو۔
حالیہ ایران اسرائیل جنگ، غزہ کے المیے ، لبنان اور شام میں مداخلت ، اسرائیل مخالف بڑھتے عالمی جذبات اور مغربی حکومتوں کی منافقانہ پالیسی کی فضا میں خود اسرائیلی تجزیہ کار اور اسٹیبلشمنٹ کے گرگانِ باراں دیدہ اپنی ریاست کے عزائم کو کس سمت جاتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ سمجھنا بھی بہت اہم ہے۔
ڈیوڈ وینبرگ یروشلم میں قائم مسگاف انسٹیٹیوٹ برائے صیہونی حکمتِ عملی و قومی سلامتی سے وابستہ ہیں اور اٹھائیس برس سے اخباری مضامین بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے خیالات پڑھ کے اسرائیل کے موجودہ و آیندہ عزائم کی تصویر نہ صرف صاف صاف دیکھی جا سکتی ہے بلکہ اس شعر کا مفہوم بھی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ،
سب کا حق لے کے بھی محروم نظر آتا ہے
اتنا ظالم ہے کہ مظلوم نظر آتا ہے
( احمد نوید )
ڈیوڈ وینبرگ فرماتے ہیں ،
’’ مغرب نے لگ بھگ چار دہائی پہلے اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں سے دستبرداری اور درپیش خطرات کا عسکری جواب دینے کے بجائے تحمل اور سفارت کاری برتنے کا جو مطالباتی نسخہ اوسلو امن معاہدے کے نام پر اسرائیل کے حلق سے اتارنے کی کوشش کی ۔اس کا اثر مغربی کنارے اور غزہ کی طرف سے دہشت گرد حملوں ، شام اور لبنان میں اسرائیل دشمنوں کی پناہ گاہوں اور ایران کے جوہری بم منصوبے کی شکل میں سب کے سامنے ہے ۔
چنانچہ گزشتہ پونے دو برس سے اسرائیل نے سفارت کاری اور فوجی طاقت کے استعمال میں توازن کی نئی حکمتِ عملی اپنا لی ہے اور دور و نزدیک کے خطرات سے نپٹنے کے لیے وہی طریقہ اختیار کیا ہے جو سپرپاورز برتتی ہیں۔یعنی حسبِ ضرورت خان یونس سے اصفہان تک بھرپور اور اچانک فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔
اسرائیل تلخ تاریخی تجربات کے سبب قائل ہو چکا ہے کہ اس کے ہمسائے کسی مصالحت پسند اسرائیل کے بجائے کسی ایسی طاقتور ریاست کے ساتھ ہی پرامن رہ سکتے ہیں جس سے وہ بھلے تعلقات بہتر نہ بھی رکھیں مگر اس کی طاقت سے خوف ضرور کھائیں۔
اسرائیل کو گذرے برسوں میں یہ کڑوا احساس بھی ہوا کہ خاموشی کے جس عرصے کو مغربی ممالک نے امن کا دور سمجھ کے دھوکا کھایا ۔اسی عرصے کو اسرائیل کے دشمنوں نے خود کو مضبوط بنانے میں صرف کیا۔مگر اب اسرائیل بظاہر امن کے سراب سے دھوکا کھانے کے بجائے ہر اس ممکنہ خطرے کا سر اٹھاتے ہی قلع قمع کرنے کو تیار ہے جو آگے چل کے تن آور درخت بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اور پھر اسے جڑ سے اکھاڑنا مشکل تر ہو جائے۔
اسرائیلی قیادت کو اچھے سے سمجھ ہے کہ مشرقِ وسطی میں اسرائیل دشمن قوتیں بظاہر امن ، تحمل اور سفارت کاری کا جو بھی راگ الاپیں۔اندر سے وہ اسرائیل کے وجود کے درپے ہیں۔لہٰذا شام میں سابق القاعدہ جنگجو احمد الشرع کی نئی حکومت اپنی بے ضرر اداؤں سے مغربی دنیا کو بھلے کتنا ہی لبھانے کی کوشش کرے مگر ماضی کی روشنی میں اسرائیل جانتا ہے کہ اگر یہ حکومت مستحکم ہو گئی تو آگے چل کے ہمارے لیے کتنا بڑا دردِ سر بن سکتی ہے۔
چنانچہ اسرائیل اس وقت اپنے دفاع کے لیے شام کے معاملات میں جو بھی حکمتِ عملی لاگو کرنا چاہے اس میں حق بجانب ہے۔اسرائیل یہ بھی جانتا ہے کہ حزب اللہ کو قابو میں رکھنا کسی بھی لبنانی حکومت کے بس سے باہر ہے۔ایسے میں اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی عسکری و علاقائی سلامتی ذمے داریوں سے کیوں غافل رہے اور کیوں نہ ہر وہ قدم اٹھائے جو اس کی موجودہ اور آیندہ سلامتی کے لیے بہتر ہو۔
اسرائیل اب اس پالیسی پر کاربند رہنا افورڈ نہیں کر سکتا کہ وہ تحمل سے بیس تیس برس بیٹھ کر حزب اللہ اور حماس کے منصوبوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتا رہے اور پھر اپنے دفاع کے لیے ان کے حملوں کا انتظار کرے اور پھر امریکی ثالثی سے امید لگائے یا اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں اور اپیلوں پر تکیہ کرتا رہے یا پھر یہ خیال رکھے کہ شام کا اتحاد برقرار رکھنے کی خاطر وہاں کی دروز اقلیت کی مدد کر کے اور شامی حدود میں بفرزون قائم کر کے اپنی شمالی سرحد مستحکم نہ کرے۔
انیس سو چورانوے میں جوڈیا سماریا ( مغربی کنارے) پر قائم فلسطینی اتھارٹی سے بھی یہی امید تھی کہ وہ ایک دن اس قابل ہو جائے کہ اپنی جانب سے اسرائیل کو لاحق دہشت گردی کو لگام دے سکے۔مگر یہ امید بر نہ آنے کے سبب اسرائیلی فوج کو بادلِ نخواستہ جنین ، تلکرم اور نابلس میں داخل ہو کر دہشت گردی کے ٹھکانوں ( فلسطینی پناہ گزین کیمپ ) کو صاف کرنا پڑ رہا ہے۔
امریکا اور یورپی یونین نے فلسطینی اتھارٹی کو شفاف ، جمہوری ، متحرک اور مستحکم حکومت میں بدلنے کے لیے گزشتہ تیس برس میں کیا نہیں کیا۔مگر اربوں ڈالر اور یوروز کی امداد بھی مطلوبہ نتائج پیدا نہ کر سکی۔ الٹا اقربا پروری اور کرپشن بڑھتی چلی گئی اور مارے جانے والے دہشت گردوں کے خاندانوں کو مالی مدد دے کر ان کی مزید حوصلہ افزائی کی گئی۔
اس پورے عرصے میں اتھارٹی نے ایک بھی نیا اسپتال کھڑا نہیں کیا۔کسی ایک پناہ گزین کو کہیں آباد نہیں کیا۔بس ایک نیا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ بن سکا۔ امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کی سیکیورٹی فورسز کی تربیت پر ایک ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔اس مشن میں جزوی کامیابی ضرور ہوئی مگر یہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا ساتھ اور پناہ دیتی رہیں۔اسرائیلی قید میں جو دہشت گرد ہیں ان میں سے بارہ فیصد کا تعلق انھی سیکیورٹی فورسز سے ہے۔ اس پورے عرصے میں فلسطینی اتھارٹی نے کسی بھی بین الاقوامی فورم پر اسرائیل کو نشانے پر رکھنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔
پھر بھی فرانس اور سعودی عرب جیسے ممالک اس دھوکے میں ہیں کہ ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا نسخہ ہی اسرائیلی سیکیورٹی کو لاحق امراض کا تریاق ہے۔ فرانس نے تو اگلے چند روز میں غیر موجود فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ٹھوس عندیہ بھی دے دیا ہے۔
اسرائیل اپنے جنوبی علاقے کو غزہ سے ہونے والے دہشت گرد حملوں سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کی شرط اگر یہ ہے کہ حماس کے مکمل قلع قمع سے پہلے مستقل جنگ بندی ہو جائے اور پھر اس جنگ بندی سے حاصل وقفے میں حماس پہلے کی طرح کھڑی ہو جائے تو یہ حالت اسرائیل اب کسی طور قبول نہیں کر سکتا۔غزہ کی تعمیرِ نو اسے مکمل غیر عسکری علاقہ بنائے بغیر ممکن نہیں۔غزہ میں کسی متبادل ’’ ٹیکنو کریٹ ’’ گورننس کا ڈھانچہ بھی امن کی ضمانت بننے کے بجائے حماس کا نیا مکھوٹا ثابت ہو گا۔
اسرائیل کو غزہ میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اب مصر سمیت کسی عرب ریاست اور اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی کارکردگی پر بھی اعتبار نہیں۔بلکہ مصر نے تو ہمیشہ غزہ میں اسلحے کی اسمگلنگ سے نگاہیں چرائیں۔
کل کلاں یورپ اور امریکا ایران سے کوئی جوہری سمجھوتہ کر بھی لیں تو اسرائیل اس سمجھوتے کو دوسروں کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اپنے تحفظ کے نظریے سے دیکھے گا اور اس بابت کسی بھی وقت ہر مناسب کارروائی کا حق محفوظ رکھے گا۔
اسرائیل بطور علاقائی طاقت اپنی عسکری بالادستی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔مغرب کو بھی اب پہلے سے بڑھ کے احساس ہونا چاہیے کہ ایک طاقتور اور قابلِ بھروسہ اتحادی (اسرائیل ) ہی مشرقِ وسطی کی شکل بدلنے کا اہل اور کسی بھی جامع علاقائی امن کا ضامن ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلسطینی اتھارٹی میں اسرائیل اسرائیل کو اسرائیل کے کے بجائے اور پھر ہو جائے کسی بھی کے لیے
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔