اربعین مارچ مؤخر، حکومت اور ایم ڈبلیو ایم میں 7 نکاتی معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
کراچی:
زائرین کے اربعین مارچ کے معاملے پر وفاقی و صوبائی حکومت اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کی قیادت کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد مارچ مؤخر کرنے کا اعلان کردیا گیا۔
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، گورنر سندھ، ایم ڈبلیو ایم اور ایم کیو ایم کی قیادت نے مشترکہ پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
طلال چوہدری، جو خصوصی طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کراچی پہنچے، نے کہا کہ زائرین کے پیدل سفر پر پابندی سیکیورٹی خدشات کے باعث عائد کی گئی تھی، جو ایک تکلیف دہ مگر ناگزیر فیصلہ تھا۔
گورنر سندھ نے بتایا کہ انہوں نے رات گئے زائرین سے ملاقات کی اور صورتحال کو وفاقی حکومت کے سامنے رکھا۔
انہوں نے کہا کہ زائرین کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے پیدل سفر کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی، تاہم تمام فریقین کی مشاورت سے 7 نکاتی معاہدہ طے پایا، جس پر مکمل عملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔
طے پانے والے 7 نکات میں شامل ہیں:
زائرین کے لیے مخصوص فلائٹ آپریشن دو روز میں شروع کیا جائے گا۔
ایڈوانس میں دیے گئے بس کرایوں کی واپسی یقینی بنائی جائے گی۔
ایراقی حکومت سے ویزہ کی مدت میں توسیع کے لیے رابطہ کیا جائے گا۔
زمینی سفر کے متبادل انتظامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
بارڈر پر موجود اسٹوڈنٹس کے لیے فوری احکامات جاری کیے جائیں گے۔
پیدل مارچ روکنے کے فیصلے پر حکومت زائرین سے معذرت خواہ ہے۔
زائرین کے مسائل کے حل کے لیے مستقل رابطہ کمیٹی قائم کی جائے گی۔
ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین مولانا احمد اقبال رضوی نے اعلان کیا کہ کاروانِ عزاداری کو مؤخر کیا جا رہا ہے اور حکومت کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر مکمل اعتماد ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسلمان نواسہ رسولؐ امام حسینؑ سے عقیدت رکھتے ہیں، اور یہ سفر، خواہ ہوائی، بحری یا زمینی، تاقیامت جاری رہے گا۔
انہوں نے گورنر سندھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ثالثی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ زائرین کے مطالبات میں ویزہ توسیع، ہوائی سفر میں رعایت، اور خرچ شدہ رقوم کی واپسی شامل تھے، جن پر حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اس سال کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئی تاہم آئندہ زائرین کے سفر میں کسی قسم کی پابندی نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم ڈبلیو ایم زائرین کے انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش