وینزویلا کے صدر کی گرفتاری میں مدد کرنے پر اب ڈبل انعام ملے گا، امریکا
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو کی گرفتاری میں اعانت فراہم کرنیوالے شخص کو اب 25 ملین ڈالر نہیں بلکہ 50 ملین ڈالر انعام میں دینگے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو کی گرفتاری میں اعانت فراہم کرنے والے شخص کو اب دگنی انعامی رقم ادا کی جائے گی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو کی گرفتاری میں اعانت فراہم کرنے والے شخص کو اب 25 ملین ڈالر نہیں بلکہ 50 ملین ڈالر انعام میں دیں گے۔ پام بونڈی نے مزید کہا کہ وینزویلز کے صدر دنیا میں منشیات کی اسمگلنگ میں ایک بڑے اسمگلر اور ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اس لیے اب انعامی رقم کی مد میں دگنی رقم ادا کی جائے گی۔
قبل ازیں اس سال جنوری میں نیکولس مدورو کی تیسری بار صدر منتخب ہونے پر بھی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والے شخص کے لیے انعامی رقم میں 15 ملین ڈالر سے اضافہ کرکے 25 ملین کیا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر مادورو پر طویل عرصے سے تنقید کرتے آئے ہیں، امریکی صدر نے وینزویلا کے صدر پر تیسری بار منتخب ہونے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو کی کی گرفتاری میں ملین ڈالر
پڑھیں:
ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے سابق پینٹاگون عہدیدار مارک کینشین نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں بڑے پیمانے پر اسلحہ استعمال کیے جانے کے باعث امریکا کو دیگر محاذوں پر سکیورٹی خدشات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ الجزیرہ سے گفتگو میں مارک کینشین نے کہا کہ امریکا نے ایران کے خلاف ان 7 اہم اقسام کے ہتھیاروں میں سے ایک تہائی سے نصف تک استعمال کر لیے ہیں، جو مغربی بحرالکاہل، خصوصاً تائیوان جیسے ممکنہ تنازعات میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اسلحہ ذخائر کو ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لانے میں 2 سے 5 سال لگ سکتے ہیں، جس سے اس عرصے کے دوران امریکا کو دیگر ممکنہ تنازعات کی صورت میں ایک کمزوری کی کھڑکی کا سامنا رہے گا۔
مارک کینشین کے مطابق ایران جنگ پر امریکا اب تک 37.5 ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے، جبکہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس ہفتے ایران جنگ اور مجموعی فوجی تیاریوں کے لیے مزید 70 ارب ڈالرز کی اضافی فنڈنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ سستے ڈرونز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دونوں اقسام کے ہتھیار ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مارک کینشین کے مطابق امریکا کے ڈرون ہتھیاروں میں سمندری ڈرونز بھی شامل ہیں، جو دھماکا خیز مواد سے لیس ریموٹ کنٹرول کشتیاں ہیں اور اطلاعات کے مطابق ایران میں ساحلی اہداف پر حملوں کے لیے استعمال کی جا چکی ہیں۔