تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے ساتھ کوئی باہر نکلنا نہیں چاہتا، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 8th, August 2025 GMT
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ کوئی باہر نہیں نکلنا چاہتا، سوشل میڈیا پر مجھے 9 ماہ سے گالیاں دی جارہی ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلائی جارہی ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے آج پھر میرے خلاف بیانات دیے۔ اسلام ٹائمز۔ ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے ساتھ کوئی باہر نکلنا نہیں چاہتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کو تحریک کے حوالے سے مسلسل جدوجہد کرنا ہو گی، معلوم تھا 5 اگست کا نیتجہ بھی مایوس کن ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ پی ٹی آئی قیادت کے ساتھ کوئی باہر نہیں نکلنا چاہتا، سوشل میڈیا پر مجھے 9 ماہ سے گالیاں دی جارہی ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلائی جارہی ہے، علیمہ خان نے آج پھر میرے خلاف بیانات دیے۔ ممبر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ جب میرے خلاف بیانات دیں گے تو میں کیسے خاموش رہوں گا۔؟ پلانٹ کیے جانے کا بیانیہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کی وجہ سے ہے، آج پارلیمانی پارٹی نے بھی کہا کہ میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیادت کے ساتھ کوئی باہر سوشل میڈیا پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔