امریکہ کے نئے ٹیرف نظام کی وجہ سے صنعتی نظام ازسر نو مرتب ہوگا، الطاف شکور
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین نے کہا کہ بیوروکریسی کی حماقتوں اور ان کی تجاویز کو منظور کرنے والے سیاست دانوں نے اس ملک کو ڈبو دیا ہے، بیوروکریسی کو اصلاحات کی نہیں از سر نو تشکیل کی ضرورت ہے، سپورٹ پروگرام نہ ڈیزائن کئے جائیں شہریوں کے لئے باعزت روزگار کے مواقع پید کئے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ امریکہ نے مختلف ممالک پر جو ٹیرف لگایا ہے وہ دنیا میں صنعتی تنظیم نو کا باعث بنے گی، پاکستان چین اور روس سے بہتر تعلقات استوار کرے، بین الاقوامی تعلقات میں ایک جانب زیادہ جھکاؤ نقصان دہ ہوتا ہے، چائنا سے صنعتیں مختلف ممالک میں منتقل ہو رہی ہیں، پرانے تعلقات اور پڑوسی ہونے کی وجہ سے اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہونا چاہیئے، ملک میں امن و امان کے لئے ڈنڈے سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے، صنعتیں قائم کرنے کے لئے ملک میں امن سب سے پہلے ضروری ہے، مصنوعی باتوں سے مصنوعات نہیں بن سکتی ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز کا ایک پلیٹ فارم اور ایک پیج پر ہونا ضروری ہے، کسی کو نظر انداز کرنا دور اندیشی کے منافی ہے، صنعتی ترقی کی پانچوں بسیں پاکستان نے مس کر دی ہیں، پاکستان اس معاملے میں دنیا سے بہت پیچھے ہے، مربوط پالیسی کے بغیر مسابقت کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا جاسکتا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ انفرا اسٹرکچر، سستی بجلی وگیس اور پانی کی لائنوں کے بغیرصنعت و حرفت کی ترقی ممکن نہیں، پاکستان نے سپلائی چین پر سی پیک کی مدد سے جو خرچ کیا ہے اس پر منافع حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے، پورے پاکستان میں صنعتوں کا جال بچھانا ضروری ہے، اس کے لئے قابل لوگوں کو اگے لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کو فوری طور پر پرائیویٹ سیکٹر کی تحویل میں دے کر تیز رفتار ریلوں کا ایک مربوط نظام بنایا جائے، نجکاری کا عمل دو سالوں میں مکمل کیا جائے، سیاستدان اور بیوروکریسی سرکاری تجارتی اداروں سے گدھ کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پانچ جبکہ سندھ میں صرف ایک موٹر وے مکمل ہوئی ہے، سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی کے لئے پورٹ تک براہ راست موٹر وے نہیں ہے، بے ایمانی کا نظام ختم کئے بغیر ملک کیسے ترقی کرے گا؟ موٹر وے کا بنیادی مقصد سپلائی چین کی کارکردگی بڑھانا ہوتا ہے، اسی لئے موٹر وے کے اردگرد خود بخود صنعتوں اور وئیر ہاؤسز کا جال بچھ جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ موٹر وے کے لئے
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔