تہران(انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کو اب انسانیت کے خلاف جرم تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے ان تمام ممالک سے اپیل کی جو اس وقت یا ماضی میں امریکی پابندیوں کا نشانہ بنے، کہ وہ متحد ہو کر مشترکہ ردعمل دیں اور اس معاملے پر عالمی سطح پر آواز بلند کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عراقچی نے طبی جریدے لانسیٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مطالعے کا حوالہ دیا، جس میں بین الاقوامی پابندیوں کے انسانی جانوں پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق مغربی حکومتیں برسوں سے یہ دعویٰ کرتی آئی ہیں کہ پابندیاں جنگ کا پرامن متبادل ہیں، لیکن نئی تحقیق کے مطابق یکطرفہ پابندیاں، خصوصاً امریکا کی جانب سے عائد کی جانے والی، جنگ جتنی مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔

عراقچی نے بتایا کہ 1970 کی دہائی سے اب تک ہر سال پانچ لاکھ سے زائد جانیں پابندیوں کے اثرات سے ضائع ہو رہی ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے عائد غیر انسانی پابندیوں کے خلاف عالمی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ اس عمل کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا جا سکے۔

انہوں نے نشانہ بننے والے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اقدامات کو ہم آہنگ کر کے اجتماعی اور مؤثر ردعمل دیں، تاکہ اس مسئلے کا مقابلہ عالمی سطح پر کیا جا سکے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار