اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول، او آئی سی کا اجلاس جلد جدہ میں ہوگا، اسحٰق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول، او آئی سی کا اجلاس جلد جدہ میں ہوگا، اسحٰق ڈار WhatsAppFacebookTwitter 0 13 August, 2025 سب نیوز
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کسی صورت قبول نہیں، اس معاملے پر مسلم ممالک کا اجلاس جلد جدہ میں ہوگا۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں بہتری آرہی ہے اور سفارتی محاذ پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے، یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط اسلام کا قلعہ بن کر نہ ابھرے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومتِ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف اور وزارتِ خارجہ غزہ پر اسرائیلی قبضے کی بھرپور مذمت کرچکے ہیں اور ہماری جانب سے عالمی سطح پر اس معاملے پر مؤثر آواز بلند کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے فرانس اور سعودی عرب کی میزبانی میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کی، جس کا مقصد دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
اس موقع پر اسحٰق ڈار نے کہا کہ گزشتہ دنوں ان کی متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور اس سلسلے میں جلد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس جدہ میں منعقد ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو گرفتار کر لیا گیا صدر مملکت سے آذربائیجان کے سفیر کی ملاقات، امن معاہدے پر مبارکباد عدالت کو یقین دہانی کے باوجود اعظم سواتی کو پشاور ایئرپورٹ پر روک دیا گیا سپریم کورٹ بار کا رولز ترامیم اور فیسوں میں اضافے پر تحفظات کا اظہار امریکا دہشتگردی کو قابو کرنے میں پاکستان کی کامیابیوں کا معترف، ملکر کام کرنے کا عزم یومِ آزادی پر رومانیہ کے سفیر کا اردو میں خراجِ تحسین اور دوستی کا پیغام شیخ وقاص اکرم کی نشست خطرے میں، قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریک پر فیصلہ آج ہوگاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسح ق ڈار کا اجلاس نے کہا
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔