کون سے کیمیکلز نوعمر افراد میں وزن کم کرنے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں؟ نئی تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
امریکی ریاست کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے جُڑے ’فاریور کیمیکلز‘کہلائے جانے والے PFAS نوعمر افراد کے وزن کم کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزن کم کرنے کے لیے نئی مؤثر گولی آگئی، ایف ڈی اے منظوری رواں سال متوقع
حتیٰ کہ اگر وہ وزن کم کرنے کی سرجری (بیریاٹرک سرجری) سے بھی گزر چکے ہوں۔
سائنسی جریدے Obesity میں شائع تحقیق کے مطابق جن نوعمر افراد کے خون میں PFAS کی مقدار زیادہ تھی، وہ سرجری کے بعد کھویا ہوا وزن دوبارہ تیزی سے بڑھانے کا زیادہ امکان رکھتے تھے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، بریٹنی بامارٹ، جو یو ایس سی کے کیک اسکول آف میڈیسن میں پبلک ہیلتھ سائنسز کی ریسرچ فیلو ہیں، کے مطابق ہمارا مطالعہ واضح طور پر PFAS کے زیادہ ایکسپوژر اور نوعمروں میں بیریاٹرک سرجری کے بعد وزن کے نتائج کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔
PFAS کو ’فاریور کیمیکلز‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان میں کاربن اور فلورین کا مضبوط کیمیائی بندھن پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ آسانی سے تحلیل یا ختم نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ میں 17 سالہ اسپورٹس چیمپیئن بھوک سے شہید، وزن صرف 25 کلو رہ گیا
یہ کیمیکلز 1940 کی دہائی سے روزمرہ مصنوعات میں استعمال ہو رہے ہیں جن میں فائر فائٹنگ فوم، نان اسٹک برتن، داغ سے بچاؤ والا فرنیچر، واٹر پروف کپڑے اور فوڈ ریپرز شامل ہیں۔
تحقیق کی تفصیلمحققین نے 2007 سے 2012 کے درمیان بیریاٹرک سرجری کروانے والے 186 نوعمر مریضوں پر تحقیق کی۔
سرجری سے پہلے ان کے خون کے نمونے لیے گئے اور ان میں سات اقسام کے PFAS کیمیکلز کی جانچ کی گئی۔ مریضوں کو 5 برس تک فالو اپ کیا گیا، جس دوران ان کا وزن، بی ایم آئی اور کمر کا گھیر ناپا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جن نوعمروں کے خون میں PFAS کی سطح زیادہ تھی، ان کا وزن سرجری کے بعد زیادہ تیزی سے دوبارہ بڑھا اور کمر کے سائز میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
تحقیق کے مطابق، جن نوجوانوں میں PFOS کی سطح زیادہ تھی، انہوں نے سرجری کے 5 سال بعد اوسطاً 47 پاؤنڈ وزن دوبارہ بڑھایا، جب کہ کم سطح والے گروپ میں یہ اضافہ تقریباً 36 پاؤنڈ رہا۔
اسی طرح PFHpS کی زیادہ مقدار رکھنے والوں میں سرجری کے بعد ہر سال اوسطاً 4.
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج مزید شواہد فراہم کرتے ہیں کہ PFAS پر سخت ضابطہ بندی کی ضرورت ہے، خاص طور پر پانی کی فراہمی میں، جو امریکا میں ان کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
تاہم، ماہرین نے واضح کیا کہ موجودہ مطالعہ مشاہداتی ہے اور اس سے PFAS اور وزن بڑھنے کے درمیان براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
PFAS جریدہ Obesity کیمیکل وزن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کیمیکل سرجری کے بعد
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔