وزارت مذہبی امور نے حج درخواستوں کی وصولی کی تاریخ میں توسیع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق 12 روز میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد حج درخواستیں موصول ہوئیں۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سرکاری حج سکیم میں 7 ہزار نشستیں باقی ہیں، ایک دن کی توسیع "پہلے آئیے پہلے پائیے" کی بنیاد پر ہے۔ ترجمان کے مطابق نشستیں مکمل ہوتے ہی حج درخواستوں کی وصولی روک دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزارت مذہبی امور نے حج درخواستوں کی وصولی کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ حج درخواستوں کی وصولی کی تاریخ میں ایک دن کی توسیع کی گئی ہے۔ اب نامزد بینکوں میں پیر 18 اگست کو بھی حج درخواستوں کی وصولی جاری رہے گی۔ وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق 12 روز میں ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد حج درخواستیں موصول ہوئیں۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ سرکاری حج سکیم میں 7 ہزار نشستیں باقی ہیں، ایک دن کی توسیع "پہلے آئیے پہلے پائیے" کی بنیاد پر ہے۔ ترجمان کے مطابق نشستیں مکمل ہوتے ہی حج درخواستوں کی وصولی روک دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حج درخواستوں کی وصولی ترجمان کے مطابق
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔