کراچی: نیگلیریا فاولیری کے باعث 29 سالہ شخص جان کی بازی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
کراچی کے ایک نجی اسپتال میں نیگلیریا فاولیری کے باعث 29 سالہ شخص جان کی بازی ہار گیا۔ رواں سال سندھ میں نگلیریا سے ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق ضلع وسطی کے رہائشی کو 7 ستمبر سے علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ مریض کو 11 ستمبر کو اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ اسی روز دم توڑ گئے۔
محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مریض کی موت کے بعد 12 ستمبر کو نیگلیریا فاولیری کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق متوفی نے کسی قسم کی آبی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا تھا اور صرف پینے اور نہانے کے لیے نلکے کا پانی استعمال کرتے تھے۔
طبی ماہرین کے مطابق رواں سال صوبہ سندھ میں نیگلیریا فاولیری سے ہونے والی یہ پانچویں ہلاکت ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو اُبالا ہوا پانی استعمال کرنے اور پانی کے ذخائر میں کلورینیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔