اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔19 ستمبر ۔2025 )پاکستان کی کپاس کی پیداوار میں سال بہ سال 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو رواں ماہ15ستمبر تک 20 لاکھ 4 ہزار گانٹھوں تک پہنچ گئی یہ بات پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتائی گئی ہے پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق اس مدت کے دوران پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 6 لاکھ 90 ہزار گانٹھیں پہنچیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 28 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ سندھ میں 47 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جہاں 13 لاکھ 14 ہزار گانٹھیں جننگ فیکٹریوں تک پہنچیں، مجموعی پیداوار کپاس کے شعبے میں ابتدائی بحالی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو گزشتہ برسوں میں کئی مشکلات کا شکار رہا.

(جاری ہے)

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق نے اس اضافہ کو مختلف عوامل کا نتیجہ قرار دیا، جن میں پنجاب میں بڑے پیمانے پر قبل از وقت کاشت، بلند درجہ حرارت کے باعث پھلیوں کی تیز نشوونما، اور سندھ میں پیداوار میں نمایاں اضافہ شامل ہیں مارکیٹ سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، ٹیکسٹائل ملوں نے 16 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں خریدیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا 3 لاکھ زیادہ ہیں ، جبکہ برآمدکنندگان نے 26 ہزار 400 گانٹھیں حاصل کیں، خریداری میں اس اضافے سے ملکی سپلائی پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اشارہ ملتا ہے فعال جننگ فیکٹریوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، پنجاب میں 212 فیکٹریاں سرگرم ہیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دگنی ہیں، سندھ میں 216 فیکٹریاں کام کر رہی ہیں، جو گزشتہ سال سے 30 فیکٹریوں کے اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، سندھ کا ضلع سانگھڑ سب سے زیادہ پیداوار والا ضلع رہا، جہاں سے 7 لاکھ 79 ہزار گانٹھیں حاصل ہوئیں، جبکہ پنجاب میں وہاڑی ایک لاکھ 14 ہزار گانٹھوں کے ساتھ سرفہرست رہا. احسان الحق کا کہنا تھا کہ 26-2025 کے سیزن کی مجموعی کپاس پیداوار کی زیادہ واضح تصویر اکتوبر کے وسط تک سامنے آئے گی، جب ابتدائی کٹائی مکمل ہو جائے گی اور حالیہ سیلاب کے اثرات پوری طرح ظاہر ہوں گے ادھر مختلف اداروں کی پیداوار کے تخمینوں میں فرق نے صنعت کے اسٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا کر دی ہے پی سی جی اے نے 15 ستمبر تک پنجاب کی پیداوار 6 لاکھ 90 ہزار گانٹھیں بتائی، جبکہ پنجاب کراپ رپورٹنگ سروس(سی آر ایس) نے 18 ستمبر تک یہ اعداد و شمار 17 لاکھ 15 ہزار گانٹھیں ظاہر کیے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جو گزشتہ سال کی پیداوار

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا

لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ