سندھ حکومت نے 24 ستمبر کو ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے موقعے پر متعلقہ اضلاع میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ بلدیاتی انتخابات ری پولنگ نتائج، 59نشستوں میں سے 39 پر پیپلز پارٹی کامیاب

یہ فیصلہ صوبے میں 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی ضمنی انتخابات کے پیش نظر کیا گیا ہے جہاں 28 نشستوں پر پولنگ ہوگی۔

سندھ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ان ضمنی انتخابات میں جن نشستوں پر پولنگ ہو گی ان میں 2ضلع کونسل نشستیں،6  چیئرمین،7 وائس چیئرمین اور13  جنرل وارڈ ممبران کی سیٹیں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن سندھ کے ترجمان کے مطابق167  پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 127 کو انتہائی حساس اور 34 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ان میں 17 مردوں کے لیے اور 17 خواتین کے لیے جبکہ 134 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہوں گے۔

مزید پڑھیے: سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے بارش کے پانی میں بہہ گئے، فاروق ستار

پولنگ کے دوران 1،512 اہلکار ڈیوٹی انجام دیں گے جن میں 14 ضلعی مانیٹرنگ افسران اور21  دیگر مانیٹرنگ افسران شامل ہوں گے۔

ووٹرز کی تعداد

رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 243،187 ہے جس میں 133,038 مرد جبکہ 110,154 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

انتخابی ضابطہ اخلاق

الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 182 کے تحت تمام سیاسی جماعتوں پر پبلک اجتماعات، ریلیوں، جلسوں اور کارنر میٹنگز پر 48 گھنٹے پہلے سے پابندی ہوگی۔

مزید پڑھیں: سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات: مرتضیٰ وہاب صدر کی یوسی 13 سے چیئرمین منتخب

یہ پابندی 22 اور 23 ستمبر کی درمیانی رات سے پولنگ کے اختتام تک مؤثر رہے گی۔

موبائل فون پر پابندی

پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون لے جانے پر پابندی عائد ہو گی، تاہم پولنگ اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کو اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلدیات کے ضمنی انتخابات بلدیاتی انتخابات پولنگ سندھ سندھ 14 اضلاع میں پولنگ سندھ بلدیاتی ضمنی انتخابات سندھ میں عام تعطیل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلدیات کے ضمنی انتخابات بلدیاتی انتخابات پولنگ سندھ 14 اضلاع میں پولنگ سندھ بلدیاتی ضمنی انتخابات سندھ میں عام تعطیل بلدیاتی انتخابات ضمنی انتخابات اضلاع میں

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن