کراچی 5 روز قبل اغوا کیے گئے 7 سالہ بچے کی بوری بند لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
لانڈھی سے 5 روز قبل اغوا کیے گئے کمسن لڑکے کی بوری میں بند چند روز پرانی لاش مل گئی، مقتول 18 ستمبر کو لاپتہ ہوا تھا جس کے اغوا کا مقدمہ لانڈھی تھانے میں درج ہے۔
تفصیلات کے مطابق لانڈھی کے علاقے 36 بی لال مزار گندی گلی میں قائم کچرا کنڈی سے بوری بند لاش کی اطلاع پر پولیس اور چھیپا کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے اس دوران پولیس نے لاش کو چیک کیا تو اس میں سے کمسن لڑکے کی تعفن زدہ لاش ملی جو کہ چند روز پرانی بتائی گئی۔
لانڈھی پولیس نے فوری طور پر کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کرنے کے بعد مقتول کی لاش ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منقتل کیا جہاں شناخت 7 سالہ سعد ولد سلمان کے نام سے ہوئی۔
اس حوالے سے ایس ایچ او لانڈھی رضوان پٹیل نے بتایا کہ مقتول کی شناخت 7 سالہ سعد علی ولد سلمان علی کے نام سے کی جو کہ 18 ستمبر کو لانڈھی بی ایریا گوشت مارکیٹ لال مزار کے قریب سے لاپتہ ہوا تھا تاہم پولیس نے مغوی سعد علی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 581 سال 2025 بجرم دفعہ 364 اے کے تحت درج کیا تھا اور بچے کی تلاش کے لیے مغوی کی تصویر کے ساتھ پمفلٹ بھی چھپوایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ لاش کے معائنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی وجہ موت کے تعین سمیت دیگر حوالے سے معلوم ہو سکے گا۔ رضوان پٹیل نے مزید بتایا کہ مغوی کے والد کا کہنا تھا کہ ہماری تو کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے، لاش ملنے کی اطلاع پر مغوی کے گھر میں کہرام مچ گیا خواتین شدت غم سے نڈھال ہوگئیں جبکہ علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد ان کے گھر جمع ہوئی اور واقعے پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سعد علی کے اغوا اور اس کے بے رحمانہ قتل میں ملوث سفاک قاتلوں کا سراغ لگا کر انھیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
علاقہ مکینوں نے پولیس پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 5 روز میں رپورٹ درج ہونے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔