پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے، وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا: عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورہ امریکا کے بعد اُڑان پاکستان شروع ہوگئی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ کہاں ایک حکمران تھا جس کے دور میں پاکستان ڈیفالٹ کررہا تھا، اب پاکستان کی مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا میں عزت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات مستحکم ہورہے ہیں، اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین اور کشمیر کا مقدمہ لڑا۔عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اب مہنگائی، انٹرسٹ ریٹ سمیت تمام میکرو اکنامک اشاریے مثبت ہیں، ماضی کے حکمران نے تمام ملکوں کے ساتھ تعلقات اپنی انا کی خاطر خراب کیے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اب پاکستان کی مشرق سے لے کر مغرب تک دنیا میں عزت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عطا تارڑ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔