پیرو: حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لیما (انٹرنیشنل ڈیسک) پیرو کے دارالحکومت لیما میں حکومت مخالف جین زی کے مظاہرے شدت اختیار کر گئے۔پیرو کی نوجوان نسل صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اور کانگریس کے خلاف احتجاجی مارچ کر رہی ہے۔ مظاہروں کے دوران پتھراؤ اور پیٹرول بم سے حملے کیے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار اور صحافی سمیت 19 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے جوابی کارروائی میں آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ پیرو میں جین زی کی جانب سے 20 ستمبر سے نئے قانون کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
پیرو میں جاری احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے مناظر
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔