پاکستان میں بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں 6.4 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان نے غذائی قلت کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا بھر کے لیے ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔
آغا خان یونیورسٹی کی تازہ تحقیق کے مطابق بی آئی ایس پی کے تحت چلنے والے “بینظیر نشوونما پروگرام” نے بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح کو 6.
یہ کامیابی دنیا بھر میں غذائیت کے بڑے پیمانے پر جاری کسی بھی پروگرام کے لیے ایک نمایاں اور ریکارڈ سطح کی پیشرفت سمجھی جا رہی ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس پروگرام کے تحت نہ صرف بچوں کی صحت بہتر ہوئی ہے بلکہ پیدائش کے بعد کے نتائج میں بھی نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماؤں کی صحت اور زندگی کے معیار میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سماجی تحفظ کے اقدامات کو غذائیت کے پروگراموں کے ساتھ منسلک کیا جائے تو حقیقی اور پائیدار نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن روبینہ خالد نے ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک پروگرام کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے لاکھوں غریب خاندانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی کی نشاندہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واضح پیغام ہے کہ غربت اور غذائی قلت کے خلاف مربوط پالیسی ہی مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پروگرام کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ غذائی قلت کے بوجھ کو کم کیا جا سکے اور پاکستان کے انسانی وسائل کو زیادہ مضبوط اور صحت مند بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس پروگرام کو مزید علاقوں تک پھیلایا گیا تو پاکستان نہ صرف غذائی قلت کو کم کرنے میں کامیاب ہوگا بلکہ عالمی سطح پر ایک مؤثر ماڈل کے طور پر بھی ابھرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: غذائی قلت
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔