پاناما کے بعد والد پر مشکل وقت آیا تو سیاست میں آئی، 2 بار بغیر قصور کے جیل گئی:مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے ضلع چکوال میں سکول آف ایکسیلینس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما کے بعد والد پر مشکل وقت آیا تو سیاست میں آئی، دو بار بغیر قصور کے جیل گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے کاموں میں مصروف ہوگئی تھی، میری نظر میں چکوال کی اہمیت وہی ہے جو دوسرے شہروں کی ہے، گزشتہ سال ہم نے 30 ہزار سکالرشپس دیں، اس سال سوا لاکھ لیپ ٹاپ دیں گے۔
اسلام آباد میں بیٹھ کر کراچی کو ٹھیک نہیں کیا جاسکتا: مرتضیٰ وہاب
مریم نواز نے کہا کہ جب عہدے کا حلف اٹھایا تو صوبے میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال تشویشناک تھی، صوبے میں جرائم کو کنٹرول کرلیا، جرائم کی شرح میں کمی آئی، محفوظ اور خوشحال پنجاب میرا خواب ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوان صوبے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں، اپنی بیٹیوں کا راستہ نہ روکیں۔
پنجاب میں تاریخ کا بد ترین سیلاب آیا، تاریخی ریلیف آپریشن کیا گیا، مجھ سمیت پوری کابینہ متاثرہ علاقوں میں موجود رہی، افسوس دوسرے صوبوں نے پنجاب میں سیلاب پر پریس کانفرنسز کیں، وزرا کا کام بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنا اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھنا نہیں ہے، جس کو سڑکیں اور سستی روٹی نہیں ملتی، وہ اپنے حکمرانوں سے سوال کرے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور یوٹیوب کے درمیان قانونی تنازعہ ختم، سمجھوتہ طے پا گیا
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پانامہ کے بعد والد پر بہت مشکلات آئیں، میں سیاست دان بننے کی خواہاں نہیں تھی، والد پر مشکل وقت آیا تو میں نے بھرپور ساتھ دیا، 2 بار بغیر قصور کے جیل جانا پڑا، قید میں رکھا گیا، جون جولائی میں جیل کا کمرہ تندور کی طرح گرم ہوتا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: والد پر
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔