امریکا کی کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹرز کے قریب دہشتگرد حملے کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
—تصویر آئی این پی
امریکا کی جانب سے کوئٹہ کے ایف سی ہیڈکوارٹرز کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے نے جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ ہم متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔
کوئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب خودکش دھماکے میں 2 ایف سی کے جوانوں سمیت 10 افراد شہید ہو گئے۔
امریکی سفارت خانے کا مزید کہنا ہے کہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے تاکہ عوام کو خوف اور تشدد سے محفوظ زندگی میسر آ سکے۔
دوسری جانب امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کہنا ہے کہ ہم بلوچستان اور پورے ملک میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرنے کے حوالے سے پُرعزم ہیں۔
واضح رہے کہ آج کوئٹہ میں پشین اسٹاپ کے قریب خودکش دھماکے میں 2 ایف سی کے جوانوں سمیت 10 افراد شہید جبکہ 26 زخمی ہو گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔