نیو کراچی ٹاؤن میں ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین اور وفات پا جانے والے ملازمین کے لواحقین میں مجموعی طور پر 72 لاکھ روپے کے چیک تقسیم کیے۔اس موقع پر ٹاؤن وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر،دیگر ٹاؤن افسران بھی موجود تھے۔اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین اور متوفی ملازمین کے لواحقین کے فائنانشل اسسٹینس اور لیو ان کیشمنٹ کی مدَمیں 72 لاکھ روپے واجب ادا تھے۔ملازمین کے بقایاجات کی ادائیگی کے لئے متعلقہ محکمے کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے دورِ نظامت میں ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کے واجبات شفاف انداز میں ادا کیے جارہے ہیں اور آج تک کسی بھی ملازم کے واجبات روکے نہیں گئے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ملازم کے واجبات باقی ہیں تو وہ سابق ادوار سے تعلق رکھتے ہیں، موجودہ دور میں واجبات کی ادائیگی کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ چیئرمین نے بتایا کہ اس سال ریٹائر ہونے والے ملازمین کو تمام واجبات ادا کر دیے گئے ہیں جبکہ آئندہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کے معاملات پراسس میں ہیں۔محمد یوسف نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن کے ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد فائلیں کے ایم سی کو پینشن کی تیاری کے لیے ارسال کی ہیں تاکہ ملازمین کو ان کے قانونی حقوق بروقت مل سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ملازمین کو ان کے تمام واجبات فراہم کرنا اور ان کی خدمت کرنا ہے، تاکہ وہ برسوں کی اپنی محنت اور خدمات کے بدلے بہتر نعم البدل حاصل کر سکیں۔ چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیو کراچی ٹاؤن انتظامیہ ملازمین کی فلاح و بہبود کے اقدامات جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاو ن والے ملازمین ملازمین کے کے واجبات ہونے والے کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔