پاک چین دوستی ناقابلِ شکست رشتہ ہے، وزیراعظم کی قومی دن پر چینی قیادت کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے 76ویں قومی دن کے موقع پر چین کی قیادت اور برادر عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مبارک دن پر میں چینی عوام کی ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ دن نہ صرف چین کے شاندار قومی سفر کی یاد دہانی ہے بلکہ ایک عظیم قوم کی ترقی، استحکام اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں چین کے کردار کا بھی اعتراف ہے، صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز اور مثالی قیادت میں چین نے ترقی و خوشحالی کے ایسے سنگِ میل عبور کیے ہیں جو دنیا کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی ایک لازوال اور ناقابلِ شکست رشتہ ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے، یہ رشتہ باہمی اعتماد، قربانی اور اخلاص پر مبنی ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہے، میرا حالیہ دورہ چین انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہا۔ان کا کہنا تھا کہ دورہ چین پاکستان اور چین کے دو طرفہ تعلق کے ضمن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس اور بی ٹو بی کانفرنس میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدوں جیسے تاریخی سنگ میل عبور کیے، چین پاکستان اقتصادی راہداری ہمارا چین کے ساتھ انتہائی اہم مشترکہ معاشی منصوبہ ہے جو کہ اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے،شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات پر فخر کرتا ہے اور ہم پرامید ہیں کہ دونوں ممالک اپنی دوستی اور شراکت داری کو نئے سنگِ میل تک لے کر جائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی عوامی جمہوریہ چین کے 76ویں قومی دن پر چینی قیادت، کیمونسٹ پارٹی اور عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ چینی قیادت نے مختصر مدت میں معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے خواب کو عملی تعبیر دی ہے۔اپنے ایک جاری بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ چین استقامت،اصولوں کی پاسداری اور اجتماعی فلاح کے جذبے سے اقوام عالم میں بلند مقام پر پہنچا ہے، چین کی معاشی۔ سماجی اور عسکری میدان میں غیر معمولی کامیابیاں خطے کے لیے ترقی و استحکام کا باعث ہیں۔انہوں نے کہا کہ چین کی شاندار تاریخ، ثقافتی ورثے اور حیرت انگیز ترقی پر قومی دن پر چینی قیادت اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاک چین تعلقات تاریخی، سٹریٹیجک اور مضبوط شراکت داری پر مبنی ہیں، سی پیک جیسے عظیم منصوبے پاک چین عظیم شراکت داری کی روشن مثال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمالیہ کی فلک بوس چوٹیاں، سمندر کی گہرائیاں اور قراقرم کی سنگلاخ راہیں پاک چین لازوال دوستی کی گواہ ہیں، چین نے ہر بحران، علاقائی تناؤ یا داخلی چیلنج میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔محسن نقوی نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مستقل اور مرکزی ستون ہیں، گوادر سے خنجراب تک، توانائی سے مواصلات تک، چین نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک چین سٹرٹیجک شراکت داری خطے میں توازن اور ترقی کی بنیاد ہے، قومی دن پر چینی قوم کی لگن، محنت اور جدت پسندی کو سلام پیش کرتے ہیں، چینی قوم کی مزید ترقی۔ کامرانی اور عروج کیلئے دعا گو ہیں، پاک چین دوستی زندہ باد۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: شراکت داری چینی قیادت نے کہا کہ پاک چین کے ساتھ پر چین چین کے کے لیے چین کی
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔