کراچی:

یہ یوروبانڈ 2015 میں جاری کیا گیا تھا جو 30 ستمبر 2025 کو میچور ہوا۔ وزارت خزانہ کے مطابق قرض کی بروقت ادائیگی پاکستان کے مالیاتی نظم و ضبط اور معیشت میں استحکام کی واضح عکاس ہے۔

یورو بانڈ 2015ء  میں 10 سالہ مدت کے لیے جاری کیا گیا تھا اور اس وقت بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ وزارت خزانہ کے مطابق بروقت ادائیگی سے پاکستان  نے عالمی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان معاشی مشکلات کے باوجود اپنے تمام بیرونی قرضوں کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر اور لیکویڈیٹی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جب کہ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی پاکستان کی ریٹنگ میں اضافہ کیا ہے۔ وزارت کے مطابق ان مثبت معاشی اشاروں کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے بانڈز پریمیم پر ٹریڈ ہوتے رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ادائیگی سے پاکستان کے کریڈٹ پروفائل پر مثبت اثر پڑے گا اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔  یہ اقدام ریٹنگ ایجنسیوں کے ان مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ پاکستان کی بیرونی لیکویڈیٹی مینجمنٹ میں بہتری آئی ہے۔

اس ادائیگی کے بعد قریبی مدت میں ڈیفالٹ کے خدشات کم ہوئے ہیں اور پاکستان کی مجموعی کریڈٹ ریٹنگ کو تقویت ملی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا