408 پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں شاندار تقریب، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خصوصی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ بھر کے 408 پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور میں منعقدہ شاندار تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز کوئین میری کالج کے میوزک بینڈ کی پیشکش سے ہوا۔ اس موقع پر ہوم اکنامکس یونیورسٹی کی طالبات نے وزیر اعلیٰ کو شال پہنائی اور پینٹنگز پیش کیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف پوزیشن ہولڈر طلبہ کی نشستوں پر خود گئیں اور انہیں مبارکباد دی۔
پنجاب کے 9 تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈر طلبا کے لیے 173.
مزید پڑھیں: مریم نواز سیلاب زدہ علاقوں کا جائزہ لینے چکوال پہنچ گئیں، متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے چاق چوبند دستے نے سلامی دی۔
تقریب میں اس وقت جذباتی ماحول پیدا ہوا جب کرسچن ٹیچر کے مسلمان شاگرد اور مسلم ٹیچر کے کرسچن شاگرد کا تذکرہ ہوا۔ حاضرین نے بھرپور جوش و خروش کا اظہار کیا۔
جی سی یونیورسٹی لاہور کی میوزک سوسائٹی نے علامہ اقبال کا کلام پیش کیا جبکہ گرلز کالج وحدت کالونی اور کوپر روڈ کی طالبات نے صوفیانہ کلام سنایا۔ گورنمنٹ کالج گلبرگ کی میوزک سوسائٹی نے قومی ترانہ اور ملی نغمے بھی پیش کیے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے حافظ علی حمزہ کو تلاوت کی سعادت حاصل کرنے اور خدیجہ عبدالرزاق کو نعت خوانی پر اسٹیج پر بلا کر ان سے شفقت کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
408 پوزیشن ہولڈرز پنجاب مریم نواز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 408 پوزیشن ہولڈرز مریم نواز مریم نواز شریف پوزیشن ہولڈرز
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔