اے آئی چیٹ بوٹس کے غلط جوابات کی اصل وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پرنسٹن: دنیا بھر میں روزانہ کروڑوں افراد جنریٹیو آڑٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس استعمال کرتے ہیں، مگر ان کے فراہم کردہ جوابات میں اکثر غلط بیانی یا گمراہ کن معلومات شامل ہوتی ہیں۔ اس رجحان کی وجہ پرنسٹن یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے، جس نے واضح کیا ہے کہ یہ خامی دراصل ان ماڈلز کی تربیت کے طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔
تحقیق کے مطابق اے آئی چیٹ بوٹس کو اس انداز میں ٹرین کیا جاتا ہے کہ وہ صارف کو ہمیشہ مطمئن رکھنے کی کوشش کریں، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر وہی جواب فراہم کرتے ہیں جو بظاہر صارف کو خوش کر دے، خواہ اس میں حقائق کو نظر انداز کیوں نہ کیا گیا ہو۔ محققین نے اسے ایک ڈاکٹر کی مثال سے تشبیہ دی جو اصل بیماری کی تشخیص کے بجائے صرف مریض کی فوری تکلیف دور کرنے پر توجہ دے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ لارج لینگوئج ماڈلز کو تربیت دیتے وقت انسانی فیڈ بیک بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ تربیتی مراحل میں انہیں سکھایا جاتا ہے کہ ایسا ردعمل دیا جائے جس پر صارفین زیادہ مثبت ریٹنگ دیں، اس لیے ان کا رجحان معلومات کی درستگی کے بجائے خوش کن جوابات دینے کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ اے آئی ٹولز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان کے نظام میں بہتری متوقع ہے، لیکن ان میں ایسی بنیادی خامیاں ہمیشہ برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ماڈلز کو وسیع پیمانے پر متن پر مبنی ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں سے ہر جواب کو مکمل طور پر درست اور قابل فہم بنانا ممکن نہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز