اقدام قتل، پولیس پر حملے کے ملزمان کی سزا ختم کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں3 سال سے جیل میں قید مجرموں کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت، عدالت نے مجرموں کی استدعا منظور کرتے ہوئے سزا کم کردی۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہاکہ جتنے دن مجرموں میں جیل میں کاٹے ہیں اتنی ہی سزا تصور کی جائے، مجرموں کو صرف جرمانے کی ادائیگی کے بعد رہا کردیا جائے۔ مجرم محمد وقاص اور بلال پر 16 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عاید کیا گیا تھا، مجرموں کی فائرنگ سے کوئی پولیس اہلکار یا عام شہری زخمی نہیں ہوا تھا، مجرموں کے خلاف مقدمہ اقدام قتل، پولیس پر حملے کرنے کی دفعات کے تحت درج ہوا تھا، مجرموں کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا، مجرموں کے خلاف مقدمہ تھانہ بوٹ بیسن میں 2023ء میں درج ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہوا تھا
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔