ٹرمپ کی ناقد خاتون جج کے گھر میں پُراَسرار آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251007-06-10
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دینے والی خاتون جج کو موت کی دھمکیاں ملنے کے بعد ان کے گھر میں پراسرار طور پر آگ لگ گئی۔ ذرائع ابلاگ کے مطابق 69 سالہ ڈیان گڈسٹین کے جنوبی کیرولائنا میں ایڈسٹو بیچ پر واقع گھر میں پراسرار طور پر گھر میں آگ لگ گئی۔ آتشزدگی کے وقت گھر میں ان کے شوہر سابق سینیٹر آرنلڈ گڈسٹین اور ان کا بیٹا موجود تھے جو جھلس کر زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ خاتون جج نے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد انہیں کئی بار قتل کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کے محکمہ انصاف نے جنوبی کیرولائنا کے عہدیداروں سے درخواست کی تھی کہ وہ 3کروڑ 30لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کے ذاتی اعداد و شمار کو تبدیل کریں۔ جن میں نام ، پتے ، پیدائش کی تاریخیں ، ڈرائیور کے لائسنس نمبر اور ان کے سوشل سیکورٹی نمبروں کے آخری 4ہندسے شامل ہیں۔ انتظامیہ اس کے بعد اعداد و شمار کا موازنہ ایک مختلف ڈیٹا بیس سے کرے گی، جس کو محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی نے برقرار رکھا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اس فہرست میں کتنے رجسٹرڈ ووٹرز امیگریشن ایجنٹوں کے ذریعہ درج نان سیٹیزینز کے ساتھ ملتے ہیں۔ جنوبی کیرولائنا کے ایک ووٹر این کروک نے جنوبی کیرولائنا الیکشن کمیشن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا تھا، جس کی سماعت کرتے ہوئے جج ڈیان گڈسٹین نے گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن کو ووٹر فائلیں محکمہ انصاف کو جاری کرنے سے روک دیا تھا۔ان کے اس فیصلے پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے شہری حقوق ہرمیت ڈھلون نے تنقید بھی کی تھی۔ بعد ازاں گڈسٹین کے فیصلے کو ریاستی سپریم کورٹ نے تبدیل کر دیا تھا۔ذرائع نے کہا ہے کہ سرکٹ کورٹ کے جج کو ریاست کو ووٹروں کے رجسٹریشن کے حساس دستاویزات کو وفاقی حکومت کے حوالے کرنے سے روکنے کے ان کے متنازع فیصلے کے بعد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران موت کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جنوبی کیرولائنا گھر میں دیا تھا کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔